عمران شدید ڈپریشن میں، ہارٹ بیٹ بڑھ گئی، بلڈ پریشر بگڑ گیا

جیل سے فوری رہائی، عدالتی ریلیف کی فراہمی اور دوبارہ اقتدار کی راہیں مسدود ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں جہاں بلڈ پریشر بڑھنا شروع ہو گیا ہے وہیں ان کی ہارٹ بیٹ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے بے چینی کا شکار قیدی نمبر 804 کا بلڈ پریشر 130،80 رہنے لگا ہے جبکہ ہارٹ بیٹ بھی 50 سے اوپر ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود عمران خان کی خوش خوراکی میں کوئی کمی نہیں آئی
خیال رہے کہ عمران کو پابند سلاسل ہوئے ڈیڑھ سال ہو چکا ہے۔ انہیں 5 اگست 2023 کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں قید کیا گیا تھا ، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں 27 ستمبر 2023 کو اڈیالہ جیل منتقل کیاگیا.جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ جب عمران خان اڈیالہ جیل میں آئے تھے توان کا بلڈپریشر 110،120اور 70،80 جبکہ ہارٹ بیٹ43 سے 45 تک تھی ،جو انتہائی آئیڈیل تھا، تاہم عمران خان گزشتہ کچھ ہفتوں سے بے چینی کاشکار ہیں جس کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر 130،80 رہنے لگاہے جب کہ ہارٹ بیٹ بھی 50 سے اوپر نوٹ کی جارہی ہے.جیل ذرائع کے مطابق عمران خان گزشتہ چند ماہ سے ٹینائٹس، کانوں میں سنسناہٹ کے مرض میں بھی مبتلا ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال مکمل افاقہ نہیں ہوا، وہ اپنے ذاتی معالج کی تجویز کردہ میڈیسن استعمال کررہے ہیں.
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بلڈپریشر میں اضافے اور ہارٹ بیٹ بڑھنے کھ باوجود عمران خان کی خوش خوراکی میں کوئی کمی نہیں آئی ، گزشتہ روز انہوں نے ناشتے میں انار کا جوس، 2 ابلے ہوئے انڈے ،پورج ، دہی اور کافی لی جبکہ دوپہر کے کھانے میں دیسی گھی میں تیار کیا گیا مٹن تناول کیا، حکام کے مطابق عمران خان جیل میں باقاعدہ ایکسرسائز بھی کررہے ہیں ، اس کے علاوہ انہیں 16 ٹی وی چینلز اور 2 اخبارات کی سہولت بھی میسر ہے ،جبکہ دن میں تین مرتبہ ان کا طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔
تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بے اعتنائی اور جیل میں قید تنہائی کی وجہ سے عمران خان ڈپریشن کاشکارہو گئے ہیں جس سے چھٹکارے کیلئے عمران خان نفسیاتی عوارض کی ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف عمران خان کو اپنی ہی پارٹی تحریک انصاف میں مائنس ون کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں جبکہ دوسری جانب عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے اور جلد 9 مئی کے کیسز میں فوجی ٹرائل کی افواہوں کے بعد عمران خان شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور وہ مختلف ادویات کے استعمال سے خود کو پرسکون رکھنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین عمران خان ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہیں۔ اور وہ ڈپریشن بھگانے والی گولیاں کھارہے ہیں ۔مضبوط اعصاب کے دعویدار عمران خان اس وقت ذہنی پراگندگی کاشکار ہیں کیونکہ ان کے قریب ایساکوئی قابل اعتماد ساتھی نہیں ہے جس سے وہ کسی حوالے سے مشاورت کر سکیں ۔ان کے بعض طاقتور سہولت کار بھی ان سے رابطے نہیں کررہے۔اس صورتحال نے عمران خان کے پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت عمران خان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق استوار کرنا اور عسکری قیادت کا تحفظات کا ازالہ کرنا ہے جس کیلئے عمران خان خط لکھنے سمیت ہر طریقہ استعمال کرچکےہیں کہ کس طرح اسٹیلشمنٹ انکے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے بعض ایسی شخصیات نے رابطے کیے ہیں جن کا اثر رسوخ فوج کے با اثر ترین حلقوں تک ہے لیکن ان کی شنوائی بھی نہیں ہورہی۔انہیں یہ جواب دیاجارہاہے کہ جو شخص پاک فوج کو تقسیم کرنے کے درپے ہو اس پر کیسے اعتماد کیاجا سکتا ہے ۔پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے اور ہرقسم کے سیاسی اور لسانی تعصب سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہے ۔لیکن چیئرمین تحریک انصاف نے اس ادارے پر بے بنیاد الزامات لگا کر نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر پاک فوج اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ کوئی ایک بار نہیں کیاگیا بلکہ بار بار یہ عمل دہرایاگیا۔پاک فوج مکمل طورپر نیوٹرل ہے اور ماضی میں ادارے سے اگر کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ ملی ہے وہ افراد سے متعلق تھی اس میں پوری فوج شامل نہیں تھی۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے جہاں عمران خان کا بلڈپریشر اور ہارٹ بیٹ بگڑ گئی ہے وہیں ان کا ڈپریشن بھی حدوں کو چھوٹا دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے گاہے بگاہے ملاقاتیں کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما اب اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ لمبی قید اور ڈپریشن سے بانی پی ٹی آئی کی ذہنی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس کا نقصان غلط اور جذباتی فیصلوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ اقتدار کی راہداریوں سے نکلنے کے بعد مسلسل ناکامی کا شکار شرپسندانہ پالیسیوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ذہنی صحت کو شدید زد پہنچائی ہے۔ رہائی کی تمام راہیں مسدود ہونے کے بعد جیل میں اختیار کئے گئے جارحانہ طرز عمل کے بعد جہاں عمران خان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھ رہے ہیں وہیں دوسری جانب جیل حکام نے کسی غیر متوقع صورتحال سے بچنے کیلئے عمران خان کی ذہنی صحت کی جانچ کیلئے فوری ماہرین نفسیات کی خدمات لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
طالبان دہشت گرد اور کشمیری اور فلسطینی حریت پسند کیوں ہیں؟
اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ جیل میں عمران خان کا عمومی رویہ معمول سے ہٹ رہا ہے جبکہ جذبات کے اظہار میں عمران خان افراط و تفریط سے کام لے رہے ہیں۔ عمران خان کو جیل قواعد سے کہیں بڑھ کر آسائشیں فراہم کی جارہی ہیں۔ تاہم اپنی سیاہ کاریوں کو پس پشت ڈال کر عمران خان کو لگتا ہے کہ انھیں جیل میں رکھ کر ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور اس ظلم میں وہ حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی قصور وار قرار دے رہے ہیں، مبصرین کے مطابق ٹوئٹر پر جاری کئے جانے والے بیانات عمران خان کی اسی ذہنی حالت اور غم و غصے کو ظاہر کرتے ہیں۔
