پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی ، عمران خان کی وارننگ

پاکستان تحریک انصاف کی گروپ بندیوں اورمخالف دھڑوں نے معدنیات سےمتعلق صوبائی بل کو متنازع بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی میں بڑھتی ہوئی اندرونی چپقلش نےایک اصلاحاتی قانون کو ذاتی مفادات کی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کےرہنماؤں اور ورکروں کےدرمیان ایک جنگ چھڑ گئی ہے۔
KPMINERALBILL 2025کا ٹرینڈ چلایا گیا جس میں صوبائی حکومت اورعلی امین کو تنقید کانشانہ بنایا گیا۔ بل پر تنقید کرنے والے رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر پارٹی سےمنسلک یوٹیوبرز نےاصولی یا قانونی اعتراضات کی بجائے سیاسی اور ذاتی حملے کیے۔
تحریک انصاف کےچند یوٹیوبرز نےاس بل کو پارٹی کے نظریے کیخلاف قرار دیتے ہوئے اسے “غیر منتخب قوتوں کے حوالےکرنے” کا الزام لگایا جبکہ بعض ناراض رہنماؤں نے کہا کہ اس کے ذریعے مقامی نمائندوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کےمطابق بیرون ملک تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوبرز نےبل پر ہنگامہ برپا کردیا اوربل کو اسٹیبلشمنٹ اورامریکا سے نتھی کردیا ۔
صوبائی اسمبلی میں جمعہ کےروز بل پیش کرنے پرشکیل خان اور فضل الٰہی سمیت دیگر حکومتی اراکین نے بل کی شدید مخالفت کی جس پر اپوزیشن نےبھی تنقید شروع کردی۔پیرکےروز سیکرٹری معدنیات صوبائی اسمبلی کے اراکین کو بل پر تفصیلی بریفینگ دیں گے۔
ڈمپرز حادثات : وزیر داخلہ سندھ کا ٹرک جلانے والے افراد کو گرفتار کرنے کا حکم
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے جنگ کو بتایاکہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کےخلاف مافیا سرگرم ہے،مافیا وزیر اعلیٰ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ مائنز اینڈ منرلز شعبے کومافیا کےچنگل سے آزاد کرانا چاہتے ہیں جبکہ مافیا مجوزہ ترامیم کے خلاف پروپیگنڈا کرکے اپنےمذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
بیرسٹر سیف نےکہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا واضح مؤ قف ہے کہ کسی بھی شعبے میں مافیا کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکےجائیں گے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ان اعتراضات کوبدنیتی پرمبنی قرار دیتے ہوئےکہا کہ بل کا مقصد صوبے کے معدنی وسائل کو بہتر طور پراستعمال میں لانا اور معیشت کو ترقی دینا ہے۔
علی امین گنڈا پورکا کہنا ہےکہ اگر میں سازشی لوگوں کو پسند نہیں تو وہ میری ذات پر باتیں کریں لیکن جھوٹے پراپیگنڈے نہ کریں۔
دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنما نے ملاقات کے بعد جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نےکہا کہ انہوں نے اسد قیصر، عاطف خان اور شہرام تراکئی کو سازشی نہیں کہا، پارٹی کے رہنما الزام تراشی بند کردیں کسی نے آئندہ کوئی متنازع بیان جاری کیا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
عمران خان کا کہنا تھا بشریٰ بی بی بہادری سےکھڑی ہیں،مجھے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
