ن لیگ کو گرانے اور ہمیں جیل بھیجنے کی سازش میں عمران خان بھی ملوث تھے، سعد رفیق

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرخواجہ سعد رفیق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے انہیں جیل بھیجھنےمیں کردار نہ ہونے کے بیان کی تردید کردی۔

سماجی رابطےکے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاکہ دو روز قبل خواجہ محمد رفیق شہید کی برسی کے موقع پر کی گئی میری گفتگو شواہد اور تجربات کی روشنی میں میرےخیالات کی عکاسی کرتی ہے،اپنے ہر جملے پر آج بھی قائم ہوں اور رہوں گا۔

انہوں نےکہا کہ حسب عادت پی ٹی آئی کے حامیوں نے 23 منٹ کی تقریر کےسیاق وسباق سے ہٹ کر اس میں سے ایک جملہ اٹھایا اور عمران خان کو معصوم ثابت کرنے کے لیے اسے وائرل کردیا ’مجھےاور میرے بھائ کوعمران خان نے نہیں جنرل باجوہ اورجسٹس ثاقب نثار نے جیل بھیجا‘۔

ن لیگ کے بجائے آزاد امیدوار تصور کیا جائے، عادل بازئی کی رکنیت بحالی کا نوٹیفکیشن جاری

 

ان کا کہنا تھاکہ اپنی تقریر کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نےانہیں اور ان کے بھائی کو جیل بھجوایا جب کہ بانی پی ٹی آئی نےاس جیل کو ایکسٹینشن دیکر طویل تر کروایا۔

سعد رفیق نےکہا کہ ان کے خاندان کو تکلیف دینے والوں سے ذاتی رنجش تھی اورنہ ہے اور نہ ہی کوئی انتقام لینا ہے لیکن ذمہ داران میں سے کسی ایک کو مکھن سے بال کی مانند نکال کر تاریخ مسخ کرنے نہیں دی جائے گی۔

انہوں نےکہا کہ جس نے جو کیا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے، جرنیل ہوں،جج ہوں یا سیاستدان ہوں سب تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس بات کا پس منظر محض یہ ہےکہ مسلم لیگ (ن) کو گرانے اور ہماری پکڑ دھکڑ کی تیاری2017 سےشروع تھی،جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ، جنرل (ر) فیض حمید، جسٹس ثاقب نثاراور ان کے ساتھی اس کھلواڑکو اپنی ریاستی طاقت سے آگے بڑھا رھے تھے جب کہ عمران خان اس سازش کا حصہ اور اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں سے تھے۔

Back to top button