اڈیالہ جیل میں عمران خان کی عیاشیوں کی نئی تاریخ رقم

ایک جانب تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت عمران خان کی طویل قید پر پریشان اور فکرمند نظر آتی ہے، تو دوسری جانب جیل کی چار دیواری کے اندر بانی پی ٹی آئی دیسی مرغی، مٹن پلاو سے لے کر دیسی گھی اور چھوٹی مکھی کے خالص شہد کے مزے اڑا رہے ہیں۔ عمران خان جیل میں عیاشیاں کر رہے ہیں جبکہ جیل سے باہر موجود پی ٹی آئی رہنما ان سے زیادتیوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر اڈیالہ جیل میں سختیاں بڑھا دی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق عمران خان کے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ 6 سیلز پر مشتمل راہداری میں چہل قدمی پر پابندی لگادی گئی ہےجبکہ ان کے سیل کے اطراف میں بھی کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تحریک انصاف کے مطابق عمران خان کو مرضی کا کھانے دینے والے مشقتی کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ انہیں عام قیدیوں کا کھانا دیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی حلقوں کا دعوی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو کھانا دینے والے افراد کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں جبکہ ان کے سیل میں کھانا فراہم کرنے والے افراد کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔

تاہم دوسری جانب اڈیالہ جیل حکام کا پی ٹی آئی کے تمام تر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران خان کو کسی نئے سیل یا بیرک میں منتقل نہیں کیا گیا وہ بدستور اپنی جگہ پر رہ رہے ہیں، ورزش اور من پسند غذاؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ عمران خان کو حسب سابق تمام سہولتیں دستیاب ہیں،عمران خان کم و بیش تین گھنٹے کی سخت ورزش کرتے ہیں جس میں کوئی خلل نہیں آیا، انکی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں ،جیل کے عملے کو تاکید ہے کہ ہر قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کریں ،عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور صحت کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر خواہش پوری کی جا رہی ہے، تاحال انہیں پر جیل میں کوئی سختی نہیں کی گئی جیل ذرائع کاکہناہےواک کرنے کیلئے زیادہ جگہ ،ورزش کیلئے ایکسرسائز مشین ،بیٹوں سے بات ،وکیلوں سے ملنے کی اجازت ،ٹی وی ،چارپائی ،میٹرس، کرسی ،میز،اخبار ،کتابیں ،اٹیچ باتھ ، 6ڈاکٹر ،3میل نرس ، ایک مشقتی بھی دیاگیا ہے

ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی جیل مینول کے مطابق فراہم کیا جانے والا کھانابالکل پسند نہیں کرتے۔بانی پی ٹی آئی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کا منیو خود سیٹ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا کھانا الگ کچن میں مشقتی تیار کرتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو جیل منیو کے تحت فراہم کردہ کھانا بالکل اچھا نہیں لگتا، بانی پی ٹی آئی ناشتے میں فریش جوسز، اور ناریل کھانا پسند کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دن میں 3 مرتبہ کافی پیتے ہیں جبکہ اُن کے کھانے کو تیار ہونے کے بعد ماہر نیوٹریشنٹس چیک کرتے ہیں۔

ذرائع کےمطابق عمران خان دیسی گھی میں تیار کردہ دیسی مرغ، مٹن اور پنک سالمن مچھلی شوق سے کھاتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دیسی مرغ کی یخنی کا بھی استعمال کرتے ہیں، ہر روز بانی پی ٹی آئی کی چوائس پر جیل میں کھانا تیار ہوتا ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ سے بالا آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ جہاں جیل کے دیگر قیدی بانی پی ٹی آئی کو دی جانے والی خصوصی سہولیات پر آواز اٹھا رہے ہیں، وہیں مسلم لیگ (ن) کے اندر سے بھی ایسے اعتراضات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جو ان مراعات کو “غیر منصفانہ رعایتیں” قرار دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جیل میں عمران خان کو عام قیدیوں کے مقابلے میں غیر معمولی آسائشیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ عمران خان کو جیل میں آٹھ کمرے اور آٹھ مشقتی دیے گئے ہیں، جبکہ کسی دوسرے سیاسی اسیر کو ایسی سہولیات کبھی نہیں ملتیں‘۔  ’عمران خان کو ناشتہ میں دیسی مرغی اور شہد فراہم کیا جاتا ہے، جب کہ انہیں جم اور لائبریری کی سہولت بھی میسر ہے‘۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے دورِ اسیری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک وقت تھا جب رانا ثنا اللہ کے لیے اسٹینڈنگ آرڈر جاری تھا کہ ان کے سیل کے فرش پر چینی گرائی جائے تاکہ چیونٹیاں اور کیڑے مکوڑے آئیں اور انہیں اذیت دی جائے، مگر آج عمران خان کو جیل میں وی آئی پی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں‘۔سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں متعدد سیاستدان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں، لیکن کسی کو بھی ایسی سہولیات حاصل نہیں ہوئیں جیسی آج عمران خان کو دی جا رہی ہیں‘۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل خبریں زیر گردش تھیں کہ توشہ خانہ میں قید بامشقت کی سزا کے بعد عمران خان کو جیل میں میسر عیاشیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ عمران خان کو قید بامشقت کی سزا کے بعد دیسی گھی سے بنی مرغی، ایکسر سائز سائیکل اور ٹی وی سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ عمران خان کو قیدیوں کا لباس پہنانے کے علاوہ برتن دھونے۔ ٹوپیاں سینے یا کھیتی باڑی جیسے کاموں پر لگایا جا سکتا ہے یا مشقتی“ کا رول بھی دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ سہولیات ختم کرنے کی بجائے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی عیاشیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

Back to top button