بھارت: سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی جانب سے دہلی دھماکا BJP کا فالس فلیگ قرار

بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے گزشتہ روز نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا انتخابی فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، صحافی شالنی شکلہ نے کہا کہ جب بھی بی جے پی بحران یا سیاسی دباؤ میں ہوتی ہے، نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور دہشتگردی یا دھماکوں کا الزام پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے۔

نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مزید زخمی بھی ہوئے۔ صحافی روی نیر کے مطابق بہار انتخابات میں بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے اور دھماکوں کے امکانات باقی ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی نے کہا کہ یہ دھماکا بہار انتخابات سے قبل متوقع سیاسی اقدام تھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے بھی بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات عائد کیے ہیں، اور سابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیر بحث آیا ہے۔

دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر واضح کیا کہ گاڑی میں ہونے والا حملہ خودکش نہیں تھا، اور نئی دہلی پولیس نے اسے مقبوضہ کشمیر یا فرید آباد سے برآمد اسلحے کے ساتھ جوڑنے سے گریز کیا ہے۔

Back to top button