سوشل میڈیا پر وائرل داڑھی والا عمران خان AI کی واردات

 

 

 

یوتھیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر داڑھی والے عمران خان کا ’’جیل سے سامنے آنے والا نیا روپ‘‘ حقیقت میں بانی پی ٹی آئی کا بہروپ اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا دھوکہ نکلا۔فیکٹ چیک نے پول کھول دیا کہ داڑھی والے عمران خان کی نہ صرف ویڈیو ایڈیٹ شدہ تھی بلکہ تصویر بھی پرانی فوٹیج پر چہرے کی جعلسازی سے تیار کی گئی تھی۔ حقیقت میں عمران خان تاحال کلین شیو ہیں۔ یعنی عمران خان کی داڑھی صرف سوشل میڈیا پر اگائی گئی، حقیقت میں نہیں۔

 

خیال رہے کہ 23 اگست کو ایک پی ٹی آئی کے حمایتی ٹک ٹاک صارف نے عمران خان کی داڑھی والی ویڈیو اپ لوڈ کی۔ ویڈیو نہ صرف کروڑوں بار دیکھی گئی بلکہ لاکھوں صارفین نے اسے لائیک اور شئیر بھی کیا۔ بعد ازاں یہی کلپ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی وائرل ہو گیا جنہوں نے لاکھوں ویوز بٹورے۔ اسی دوران عمران خان کی ایک مبینہ داڑھی والی تصویر بھی بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی۔

تاہم اس کے بعد کی جانے والی تحقیقات نے ویڈیو اور تصویر کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ عمران خان کی داڑھی والی ویڈیو اور تصویر کے حوالے سے تحقیق کے دوران ریورس امیج سرچ کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ ویڈیو دراصل 23 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک پرانی تصویر سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے کیونکہ حقائق جاننے کے لیے کی گئی ریورس امیج سرچ میں سامنے آنے والی تصویر میں عمران خان صاف ستھری شیو کے ساتھ سفید شلوار قمیض اور نیلے واسکٹ میں موجود ہیں۔ اس دن عمران خان اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ان کے اردگرد وہی پولیس اہلکار بھی نظر آ رہے ہیں جو وائرل ویڈیو میں دکھائی دیتے ہیں۔ مزید تحقیق پر جیو نیوز کی اسی روز کی رپورٹ بھی ملی جس میں یہی تصویر شامل تھی۔

 

ریورس امیج سرچ سے سامنے آنے والے تمام شواہد سے یہ واضح ہوا کہ عمران خان کی داڑھی والی وائرل ویڈیو اور تصاویر محض ایڈیٹنگ اور جعلسازی کا شاخسانہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اب بھی کلین شیو ہیں، اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ ’’نیا روپ‘‘ سراسر گمراہ کن ہے۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان سے 26اگست کو ملاقات کرنے والی ان کی بہنوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمران خان تاحال کلین شیو ہیں۔ انھوں نے داڑھی نہیں رکھی ہے جبکہ جیل ذرائع کے مطابق نہ صرف عمران خان کلین شیو ہیں بلکہ روزانہ اپنی داڑھی بھی بناتے ہیں۔ جیل میں عمران خان ہشاش بشاش ہیں اور فل عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں کے لیے جیل کا کھانا ہمیشہ ایک سزا تصور کیا جاتا ہے۔ روکھا سوکھا سالن، پھیکے چاول اور باسی روٹیاں قیدی کی قسمت سمجھی جاتی ہیں۔ مگر جب بات ہو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہو تو جیل کے کھانے کا معیار ہی بدل جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عمران خان کے لیے جیل میں دیسی گھی میں سپیشل دیسی مرغ پکایا جاتا ہے، ان کی پسند کا مینو ترتیب دیا جاتا ہے اور خوراک میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ توانائی سے بھرپور رہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جیل انتظامیہ نے ان کے لیے ’’ہوٹل جیل‘‘ کا ماحول پیداکر دیا ہے، جہاں عام قیدی حسرت سے دیکھتے ہوں گے اور سوچتے ہوں گے کہ کاش وہ بھی کسی بڑی پارٹی کے لیڈر ہوتے۔

 

جیل میں عمران کا روزانہ کا معمول بھی عام قیدیوں سے بالکل مختلف ہے۔عمران خان باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، واک کرتے ہیں اور اپنی فٹنس پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ جیل کے بجائے کسی نجی فٹنس کلب میں وقت گزار رہے ہوں۔ جہاں باقی قیدیوں کے لیے قید جسمانی کمزوری اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے، وہاں بانی پی ٹی آئی کے لیے یہ قید ’’ورزش کا سنہری موقع‘‘ بن گئی ہے۔ اسی طرح عمران خان کے اوقاتِ فراغت کا انتظام بھی وی آئی پی قیدیوں کے شایانِ شان ہے۔ خان صاحب کو ٹی وی دیکھنے کی سہولت حاصل ہے، وہ تازہ خبریں دیکھتے ہیں، سیاسی حالات پر نظر رکھتے ہیں اور یوں اپنے پارٹی کے بیانیے اور دنیا سے جڑے رہتے ہیں۔ شام کے وقت وہ پر سکون ماحول میں چائے کے ساتھ خبریں ملاحظہ کرتے ہیں، گویا جیل کی دیواریں بھی ان کے لیے کسی آرام دہ ڈرائنگ روم کا تاثر دیتی ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی داڑھی والی تصویر سامنے لا کر ان کی کسمپرسی کی تصویر کشی کرنا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جس جھوٹ کی قلعی اب ریورس امیج سرچ نے کھول کر رکھ دی ہے کہ کیسے یوتھیے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

Back to top button