9 مئی شرپسندی میں ملوث عمرانڈو گرفت سے باہر کیوں؟

سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے تمام تر بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود 9 مئی کو احتجاج کے نام پر فوجی تنصیبات کے جلاؤ گھیراؤ کے کئی ملزمان، جن میں تحریک اںصاف کے کئی سرکردہ رہنما شامل ہیں، ابھی تک قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
خیال رہے کہ روز مرہ کے جرائم کے واقعات میں لاہور پولیس کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری ہوتی ہے اس میں ’جدید ٹیکنالوجی‘ کا لفظ بہت ہی تواتر سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پولیس اس پر فخر بھی کرتی ہے کہ اندھے قتل کی وارداتیں ہوں یا پھر چوری اور ڈکیتی کی، ملزمان کو ’جدید ٹیکنالوجی‘ سے ٹریس کیا جاتا ہے۔ تاہم تمام تر جدید اور قدیم ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے باوجود پولیس 9 مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں تاحال ناکام ہے۔ یہاں تک کہ پیر کو لاہور پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے کہ 22 ملزمان جن میں میاں اسلم اقبال، مراد سعید، حماد اظہر، علی امین گنڈاپور، علیمہ خان اور عظمی خان شامل ہیں ’پولیس کی پہنچ سے دور ہیں، لہذا عدالت ان ملزمان کو اشتہاری قرار دے۔‘عدالت نے پولیس کی استدعا پر ان ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔مقدمے کے تفتیشی افسر امیر عباس کے مطابق پولیس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو مقدمے کا حصہ بناتے ہوئے ان افراد کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ 9 مئی کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس تحریک انصاف کے رہنماوں کی رہائش گاہوں اور کاروباری دفاتر پر متعدد ریڈ کر چکی ہے، تاہم آج تک کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ریڈ چاہے حماد اظہر کے گھر پر ہو یا میاں اسلم اقبال کے، پولیس کے جانے کے بعد ان چھاپوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج خود تحریک انصاف کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ میاں اسلم اقبال نے تو ان چھاپوں کے بعد ٹویٹ اور ویڈیو بیانات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ حماد اظہر بھی گاہے بگاہے ٹویٹ کرتے رہتے ہیں۔
دوسری طرف پولیس ذمہ داران اس حوالے سے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ اردو نیوز کے سوالات پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے دفتر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس وقت کسی بھی طرح کی معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتی ہیں۔ اور قانونی طور پر ایسا کرنا بھی درست نہیں ہے۔ جیسے ہی کوئی معلومات شیئر کرنے کے قابل ہوں گی میڈیا کو اس سے ضرور آگاہ کیا جائے گا۔‘
پولیس کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود اتنے ہائی پروفائل ملزمان کو ٹریس کرنے میں پولیس ابھی تک ناکام کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لاہور پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پولیس نے اپنے طور پر وہ تمام کوششیں کی ہیں کہ ان ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ سی آئی اے کی ایک پولیس ٹیم نے ملک سے باہر دبئی اور ترکی میں خفیہ طور پر دورے بھی کیے ہیں۔ ان ملزمان کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے، تاہم کوئی بھی طریقہ کارگر نہیں ہوا ہے۔‘’ملزمان اپنے فون استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وہ جب بھی انٹرنیٹ کے ذریعے کوئی بیان جاری کرتے ہیں تو ایک تو وہ ہر دفعہ نیا فون اور نیا انٹرنیٹ کنیکشن استعمال کرتے ہیں، دوسرا وہ وی پی این بھی استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سراغ لگایا ہے، لیکن ڈیوائسز ڈیسپوزیبل ثابت ہوئیں۔
دوسری طرف پولیس نے تحریک انصاف کے رہنماوں کے تمام قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کی نگرانی بھی سخت کر رکھی ہے۔ پولیس بظاہر اپنے روایتی اور غیر روایتی تمام حربے استعمال کر چکی ہے، تاہم ابھی کسی بھی
راجہ ریاض، نور عالم سمیت 13 اراکین پارٹی سے باہر
رہنما کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
