عمران کے جھوٹوں اور کرپشن کا پردہ چاک ہونے والا ہے

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کے مطالبے کی بنیادی وجہ یہ خوف ہے کہ انکے دور حکومت میں ہونے والی کرپشن اور بولے گئے جھوٹ سامنے آنے پر انکی رہی سہی حمایت بھی ختم ہو جائے گی اور سچائی کا سورج ان کے جھوٹ کے اندھیرے کا پردہ چاک کردے گا۔ اس لیے انہوں نے اپنے کرتوت سامنے آنے سے پہلے ہی سڑکوں پر نکل کر مجھے امریکہ نے نکالا کا شور مچا دیا ہے۔ انکا
کہنا ہے کہ جلد ہی عمران کے جھوٹ اور ان کی بدعنوانی بارے سچائیوں کا سیلاب آنے والا ہے
۔ پھر لوگوں کو عمران کی توشہ خانے کی چوریاں بہت معمولی دکھائی دیں گی، خصوصا جب اگلے ماہ غیر ملکی فنڈنگ میں اربوں کے غبن کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی قیادت میں بننے والی موجودہ حکومت دو مخالف چیلنجز کی زد میں ہے۔ اگر اس نے قبل از وقت انتخابات کرادیے تو اسے عمران خان کے پیدا کردہ امریکہ مخالف جذبات کے جھکڑ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر یہ الیکشن میں تاخیر کرتی ہے اور کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتی ہے تو اس کی ساکھ مجروح ہوگی۔ اس سے عمران کی کامیابی کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔
اس صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ دوبارہ مبادیات کی طرف جاتے ہوئے دائروں میں قید پاکستان کے سیاسی سفر کو از سرنو شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ عمران کی جانب سے امریکی سازش کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آخر کارریکارڈ درست کر دیا ہے۔
بقول سیٹھی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوئی امریکی سازش نہیں ہوئی۔ چناں چہ انکے مطابق پاکستانی سفارت کار کے لکھے گے خط بارے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا ردعمل معمول کے مطابق تھا اور میٹنگ کے اعلامیے میں بھی سازش کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ فوجی ترجمان نے مزید واضح کیا کہ امریکیوں نے پاکستان سے کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے، اس لیے "ایبسلوٹلی ناٹ“ کہنے کی تو نوبت ہی نہیں آئی تھی جیسا کہ خان صاحب نے فرمایا تھا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے یہ بھی بتایا کہ عمران نے خود فوجی قیادت سے سیاسی آپشنز کی بات کی تھی تاکہ اس صورت حال سے نکلا جا سکے، لیکن اپوزیشن نے کوئی بھی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
تاہم فوجی ترجمان کی جانب سے اپنی پریس کانفرنس میں کیا جانے والا سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے، اور اگر انہیں توسیع کی پیش کش کی بھی گئی تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔ انکامکہنا تھا کہ فوج غیر سیاسی رہنا چاہتی ہے۔ یہ آئینی عمل کی حمایت کرتی ہے اور اب کبھی مارشل لا نہیں لگایا جائے گا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ فوجی ترجمان کی اس ”غیر معمولی“ پریس کانفرنس سے پہلے بھی بہت سے غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا سہارا کھو جانے کے بعد عمران کی حکومت گر گئی کیوں کہ اتحادیوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ تحریک انصاف اگلا الیکشن ہارنے جارہی ہے۔ لیکن عمران نے باوقار طریقے سے اپنے منصب سے الگ ہونے کی بجائے آئین اور قانون سے انحراف کیا اور بدمعاشی پر اتر آئے۔
انھیں گھر بھیجنے کے لیے سپریم کورٹ کو آدھی رات کو حرکت میں آنا پڑا۔ اب چھٹی ہو جانے کے بعد عمران خان اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ وہ ”سازش“ کی تھیوری کا راگ الاپتے ہوئے اپنے حامیوں کو فوجی قیادت پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اُنھیں اسٹیبلشمنٹ نے فارغ کیا ہے جو 2018 میں انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لائی تھی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اس صورت حال پر عمران خان کے مخالفین خوش ہیں کیونکہ عمران اسٹیبلشمنٹ پر جتنے حملے کریں گے، ان کی مستقبل قریب میں ”واپسی“ کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اپنے ہائبرڈ تجربے کی مکمل ناکامی نے اسٹیبلشمنٹ کو شدید زک پہنچائی ہے۔ وہ اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ وہ سیاست کو اس کے آئینی راستے پر چلنے دی گی تاوقتیکہ سیاست دان اس میں کہیں جمود پید اکردیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دودری جانب عمران فوجی مداخلت چاہتے ہیں تاکہ پی ڈی ایم کی حکومت جلد ختم ہو جائے۔
لہذا سوال یہ ہے کہ کیا عمران کا سیاسی دور تمام ہو گیا یا ابھی انکا کھیل باقی ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران اب بھی اپنے سازشی ”بیانیے“ کے ذریعے جذباتی ہجوم جمع کررہے ہیں۔ انکا نعرہ ہے کہ ”میں مسٹر کلین ہوں۔ اپوزیشن والے چور اور ڈاکو ہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں میرے خلاف ہیں کیوں کہ میں اسلاموفوبیا کی مخالفت کرتا ہوں اور پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک اور پیغمبر اسلام ﷺ کے دور کی ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہوں۔“ لیکن اگر حالیہ توشہ خانہ سکینڈل آنے کے بعد بھی لوگ ان پر یقین کررہے ہیں تو اسکی کیا وجہ یے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے زیادہ تر حامی جنرل ضیا الحق کی ”فکری اولاد“ ہیں۔ ان کی کلوننگ اسلامی قوم پرستی کی نرسریوں میں ہوئی ہے۔ وہ نسبتاً نوجوان، پڑھے لکھے اوردرمیانی شہری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سازش کی تھیوریوں پرآسانی سے یقین کرلیتے ہیں کیوں کہ ان کی انٹر نیٹ تک رسائی ہے جہاں ایسے تصورات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہیں۔ چوں کہ فوج اور بیوروکریسی اس طبقے سے زیادہ تر بھرتیاں کرتی ہیں، اس لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ ”سول ملٹری خاندان“ یعنی حاضر سروس اور ریٹائرڈ دونوں، اس بیانیے کے پرزور حامی ہیں۔ سمندر پار مقیم پاکستانی بھی ایسی تھیوریوں کو آسانی سے قبول کرلیتے ہیں کیوں کہ ایک تو اُنھیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسلامو فوبیا اور نسل پرستی سے واسطہ پڑتا ہے، اور دوسرے ان کی منقسم شناخت سیکولر ممالک،جہاں وہ رہتے ہیں، میں اسلامی رسومات کے احترام اور مساوات کا تقاضا کرتی ہے۔ سوشل میڈیا گروپس کی پھیلی ہوئی دنیا اورٹوئیٹر کی وسیع سپیس میں ”ہم خیال خان“ کی اندھی پرستش کی فضا گہری ہوتی ہے۔ یہاں تعصبات سے سوچ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
لیکن بقول نجم سیٹھی، اس پیش رفت کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ بہت سے لوگ ایسی اکتا دینے والی ”مورثی“ جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں جو اچھے نتائج نہیں دے پاتی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں وہی جانے پہچانے چہرے اور انہی ازکارفتہ پالیسیوں کا تسلسل ہے جو تین عشرے پہلے تھیں۔ ہم اس منظر نامے کو پوری دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ خاندانی اور مورثی سیاست دم توڑ رہی ہے اور عوامی مقبولیت اورجذباتی پرستش نوجوان ذہنو ں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ وہ نوجوان جو بے چین اور مایوس ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ احساس محرومی اور عدم تحفظ کا شکار اور مبہم تصورات رکھنے والے ”قابل فخر“ پاکستانی ملک اور بیرون ملک عمران خان کے گرد جمع ہیں کیوں کہ وہ ”تبدیلی“ کا سودا بیچتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تبدیلی کس قسم ہے؟ وہ دقیانوسی سماجی اور سیاسی ڈھانچے سے نکل کر ”نئے پاکستان“ میں رہنا چاہتے ہیں،چاہے اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ہو۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اگر جلد ہی تازہ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو عمران کی تحریک انصاف جیت جائے گی؟
اس سوال کا جواب نجم سیٹھی نفی میں دیتے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ابھی تک مرکزی دھارے کی جماعتیں ہیں کیوں کہ اُن کی تنظیمی، سماجی اور سیاسی جڑیں بہت گہری ہیں اور اُنھوں نے اپنے ادوار حکومت میں ملک کے وسیع وعریض علاقوں کے مفاد کا خیال رکھا ہے۔ اور اس سب سے فرق پڑے گا کیوں کہ جن لوگوں نے 2018 میں عمران کو ووٹ دیے تھے، وہ اب اسے ووٹ نہیں دیں گے کیوں کہ سابق حکومت کی پیدا کردی معاشی مشکلات نے ان لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی، یا وہ آہستہ آہستہ عمران کے بیانیے کے خطرناک نتائج اور عواقب سے آگاہ ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے عمران کا سمٹتا ہوا ووٹ بنک ان کے سر پر فتح کا تاج نہیں رکھ پائے گا۔
اسلیے ان کی موجودہ حکمت عملی کی سمجھ آتی ہے۔ بقول سیٹھی، عمران مختلف اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ریلیوں کا مقصد اپنے حامیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ حکومت جانے سے مایوس نہ ہوں۔ عمران کی جانب سے اپنے خلاف ہر طرح کے ثبوت موجود ہونے کے باوجود اپنے ”بیانیے” پر قائم رہنے کی ضد کے پیچھے یہ منطق کارفرما ہے کہ اگر جھوٹ کو سو بار دہرایا جائے تو وہ ”سچ“ بن جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقابلہ کرنے والی سچائیوں کی اہمیت اور طاقت کو بھی کم نہیں سمجھنا چاہئے۔
توشہ خانہ سےخریدے تحفے بیچ کرگھرکی سڑک ٹھیک کرائی تھی
جلد ہی عمران کے جھوٹ اور ان کی بدعنوانی بارے سچائیوں کا سیلاب آنے والا ہے۔ پھر لوگوں کو عمران کی توشہ خانے کی چوریاں بہت معمولی دکھائی دیں گی، خصوصا جب اگلے ماہ غیر ملکی عطیات میں اربوں کے غبن کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ صرف یہی نہیں، اس کے بعد رنگ روڈ پنڈی، راوی ٹاؤن، مالم جبہ، کورونا فنڈ، بی آر ٹی پشاور، خاتون اول کے خاندان اور دوستوں کی پنجاب میں کک بیکس اور کمیشن وغیرہ پر جو کریک ڈاؤن ہوگا، اس کی تمازت اور سختی کا تجربہ ان کی جماعت کے قائدین، منتظمین اور پراپیگنڈہ کرنے والوں کو اپنی مختصر سیاسی زندگی میں کبھی نہیں ہوا ہوگا، خاص طور پر جب وہ پہلے اسٹیبلشمنٹ کی محفوظ چھتری تلے حریفوں کی پگڑیاں اچھالتے تھے۔
