عمران کے بیٹے امریکہ سے پاکستان آنے کی بجائے واپس لندن چلے گئے

عمران خان کے اعلان کے برعکس ان کے دونوں بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کی 5 اگست سے انکی رہائی کے لیے شروع ہونے والی حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے کیونکہ دونوں شیڈول کے مطابق امریکہ سے پاکستان آنے کی بجائے واپس برطانیہ لوٹ گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ حکومت مخالف مجوزہ احتجاجی تحریک کے آغاز سے صرف ایک ہفتہ پہلے بانی کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کو ان کی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ نے امریکا سے واپس لندن بلا لیا ہے اور انہیں خان کی بہن علیمہ سے بھی رابطے منقطع کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے علیمہ خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کے دونوں بیٹے اپنے والد کی رہائی کے لیے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا تھا کہ قاسم اور سلیمان پہلے امریکہ جائیں گے جہاں وہ عمران کی رہائی کے لیے لابنگ کا اغاز کریں گے جس کے بعد وہ پاکستان پہنچ جائیں گے تاکہ 5 اگست سے شروع ہونے والی تحریک کی قیادت کر سکیں۔
منصوبے کے مطابق عمران خان کے دونوں بیٹے امریکہ پہنچے جہاں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرینل سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران کے بیٹوں نے رچرڈ گرینیل کے سامنے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ڈھیروں شکایتیں لگائیں اور یہ درخواست کی کہ صدر ٹرمپ ان کے والد کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں جیسا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ انہیں ایسی کوئی یقین دہانی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ رچرڈ نے خان کے بیٹوں کے ساتھ ایک تصویر بنا کر ٹویٹ کر دی۔
ذرائع کے مطابق قاسم اور سلیمان کی رچرڈ گرینل سے ملاقات دراصل ایک بند دروازے پر دستک کے مترادف تھی لہذا دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ رچرڈ گرینیل نے عمران کے بیٹوں کو حوصلے بلند رکھنے کا مشورہ دیا لیکن پاکستان جانے پر ان کو درپیش ممکنہ سیکیورٹی خدشات بارے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکہ عمران کی رہائی کا مطالبہ کرکے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے گا۔ رچرڈ گرینل کی جانب سے قاسم اور سلیمان کو صرف "حوصلہ بلند رکھنے” کا مشورہ دینا، اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ امریکا عمران کی رہائی کے لیے جذباتی انداز سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔
امریکی صدر کے قریبی ساتھی سے عمران خان کے بیٹوں کی ملاقات نے وقتی طور پر یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ شاید بانی کی رہائی بارے کوئی سفارتی ہلچل پیدا ہو جائے گی۔ لیکن امریکی رویے نے واضح کر دیا کہ وہ دوسرے ممالک کے عدالتی فیصلوں میں مداخلت سے گریز کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ عمران خان کا معاملہ خواہ جتنا بھی سیاسی رنگ لیے ہو، امریکا کے لیے یہ اب بھی کوئی بین الاقوامی انسانی حقوق کے بحران کی بجائے ایک "داخلی عدالتی مسئلہ” ہے۔ اسی لیے قاسم اور سلیمان سے ملاقات کے بعد رچرڈ گرینل کا ردعمل غیر واضح اور ڈپلومیٹک تھا: ان کا کہنا تھا کہ "دنیا بھر میں لاکھوں افراد سیاسی انتقام کا شکار ہوتے ہیں، آپ بھی حوصلہ بلند رکھیں۔”
سفارتی ذرائع کے مطابق اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ امریکی حلقے عمران کی گرفتاری کو پاکستان کا "داخلی معاملہ” سمجھتے ہیں اس لیے ان کی رہائی کے لیے کسی قسم کی امریکی مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کے بیٹے تو امریکی رویے سے مایوس ہوئے ہی لیکن پاکستان میں تحریک انصاف کی قیادت کو بھی امریکی سرد مہری سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب عمران کے بیٹے امریکی انتظامیہ سے ملاقاتیں کر کے پاکستان ائیں گے تو احتجاجی تحریک میں شدت آ جائے گی، لیکن رچرڈ سے ملاقات کے علاوہ کوئی دوسرا امریکی عہدے دار انہیں ملنے کو تیار نہیں ہوا لہذا، ان کے دورے کو ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔
9 مئی کے ملزمان کو سزائیں: PTI کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھرنے لگا
قاسم اور سلیمان کے امریکہ میں قیام کے دوران تحریک انصاف کی جانب سے واشنگٹن میں کوئی بڑا جلسہ یا مظاہرہ بھی نہیں ہو پایا۔ اسکے علاوہ تحریک انصاف کے مختلف گروپوں میں دورے کی ناکامی کے حوالے سے ایک دوسرے پر سخت الزام عائد کرنے کا سلسلہ بھی شر وع ہو گیا جس کے بعد جمائمہ گولڈ سمتھ نے اپنے دونوں بیٹوں کو پاکستان جانے سے منع کر دیا اور انہیں لندن واپس بلا لیا۔ ذرائع کے مطابق جمائمہ اپنے بچوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے متفکر ہیں، ویسے بھی وہ علیمہ خان پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں جنہوں نے انہیں عمران خان سے شادی کے باوجود اپنی بھاوج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان بلانے کا مقصد احتجاجی تحریک میں شدت پیدا کرنا اور اسے کامیاب بنانا تھا۔ تحریک انصاف کے ورکرز اور قائدین ن قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد سے بڑی وقعات وابستہ کر رکھی تھیں لیکن ان کے لندن واپس لوٹ جانے سے سخت بددلی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ لہذا عمران کی رہائی کے لیے مجوزہ احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
