پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ غیرقانونی اور عوام دشمن اقدام ہے۔درخواست گزار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ،بجلی،زراعت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیاکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس پہلے سے 15 دن کا ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔ عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ اوگرا اور وزارتِ توانائی کو ہدایت دی جائے کہ وہ 15 روزہ پیٹرولیم ذخائر کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔
حالات معمول پر آتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کریں گے : وزیر پیٹرولیم
درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
