انڈیا کا سکھ یاتریوں کیلئے واہگہ اور کرتار پور کے بارڈر کھولنے سے انکار

انڈیا اور پاکستان کی حالیہ جنگ کے باعث سرحد کے دونوں اطراف رہنے والی سکھ برادری بری طرح متاثر ہو رہی ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو سرحد پار اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور واہگہ اور کرتار پور بارڈرز بدستور بند ہیں۔
پاکستانی سکھ برادری کے رہنما سردار ستونت سنگھ نے بتایا کہ ’انڈیا کی جانب سے سات مئی کو انڈین شہریوں کے پاکستان سفر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لہذا جو سکھ یاتری انڈیا سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سالانہ برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنا چاہتے ہیں انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حتیٰ کہ انڈیا نے کرتارپور اور واہگہ بارڈر بھی یاتریوں کے لیے بند کر رکھے ہیں۔ دوسری جانب متروکہ وقف املاک بورڈ کے ترجمان غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ ہر برس مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی منانے کے لیے دنیا بھر کی طرح خاص طور پر انڈین پنجاب سے سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی 30 جون کو منائی جاتی ہے جس میں تین ہزار سے زائد یاتری لاہور اور کرتار پور پہنچتے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ بھارتی حکومت کی جانب سے سکھوں کی پاکستان آمد پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سکھ یاتریوں کو پاکستان میں مذہبی تہوار منانے سے روکنا سکھوں کے خلاف بھارتی نفرت کی عکاسی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے مطابق انڈیا سکھوں پر ایسی سفری پابندی نہیں لگا سکتا۔
جب پاکستانی سکیورٹی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انڈیا نے 7 مئی 2025 سے سکھوں کی پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انڈیا سے مذہبی تہوار منانے کے خواہش مند سکھوں کو کرتار پور اور واہگہ بارڈر سے بھی پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
سابق صدر سکھ گردوارا پربندھک کمیٹی سردار جسونت سنگھ کے بقول، ’جب بھی انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو سب سے زیادہ متاثر دونوں طرف بسنے والی سکھ برادری ہوتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ انڈین پنجاب میں رہنے والے سکھ یہاں مزارات کی زیارت اور مذہبی تہوار منانے آتے ہیں ان کے لیے مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں۔ جو یہاں پاکستان میں سکھ آباد ہیں وہ اپنے عزیز رشتہ داروں سے انڈیا جاتے ہیں۔ لیکن کشیدگی میں بارڈر بند ہونے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
جسونت سنگھ کے بقول، ’پاکستان کی طرف سے کبھی ہمیں اس طرح کی دشواری پیش نہیں آئی وہاں سے آنے والوں کو بھی یہاں بہترین طریقے سے سنبھالا جاتا ہے۔ لیکن انڈیا کی جانب سے ہر بار سکھوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ انڈیا پابندی لگا کر سکھوں کے مذہبی آزادیاں سلب کر رہا ہے۔ سکھوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے کرتارپور راہداری اور واہگہ بارڈر کو بھی بند کر رکھا ہے۔‘ غلام مصطفیٰ کے مطابق ’پاکستان نے بیساکھی میلے میں بھی سکھوں کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے۔ اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے حوالے سے بھی کرتار پور سمیت تمام مقامات پر انتطامات جاری ہیں۔ ہماری طرف سے سکھ برادری کو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ لیکن اس بار ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی کہ انڈیا سکھ یاتریوں کو آنے کی اجازت دے گا یا نہیں۔ لیکن ہم ہر طرح تیار ہیں اور پاکستان کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی۔‘
کیا انڈیا سندھ اور چناب دریاؤں پر آبی منصوبے بنانے میں کامیاب ہوگا؟
جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کے بقول، ’حالیہ جارحیت کے دوران انڈیا نے سکھوں کے علاقوں پر حملہ کیا اور ان کی عبادت گاہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ امرتسر میں بھی میزائل داغے تاکہ سکھوں کو پاکستان کے خلاف بڑھکایا جا سکے۔‘ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقام ننکانہ صاحب پر بھی ڈرونز سے حملہ کر کے الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی۔ انڈیا سکھ مخالف احساسات اور جذبات کے ساتھ پچھلی کئی دہائیوں سے کھیل رہا ہے۔ بقول نعیم خالد، ’مودی کی متعصبانہ سوچ نے مسلمانوں کےساتھ ساتھ انڈیا کی سرزمین سکھوں کے لیے بھی تنگ کر دی ہے۔ 1950 کے معاہدے کے مطابق سکھ یاتریوں کو چار اہم مذہبی موقعوں پر پاکستان میں مزارات پر جانے کی اجازت ہے۔ ان مذہبی مواقعوں میں گرو ارجن دیو کی برسی، گرو نانک کا یوم پیدائش، بیساکھی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی شامل ہیں، انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سکھوں کی قربت اور انڈیا کے خلاف لڑنے کا بیان مودی سرکار کے لیے دردِ سر بن چکا ہے لہذا وہ سکھ برادری کو مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روک کر غصہ نکال رہی ہے۔‘
