بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ڈیتھ سکواڈ پاکستان میں سرگرم

مئی 2925 میں صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں مرکزی مسلم لیگ کے رہنما رضا اللہ نظامانی کے قتل کیس کی تفتیش کے دوران پولیس نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے چھ اراکین کو گرفتار کیا ہے جو پاکستان میں ایک خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ہینڈلرز خلیج کے ایک ملک سے آپریٹ کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ماضی میں حافظ محمد سعید کی لاہور میں رہائش گاہ پر حملے میں بھی ملوث تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مخصوص افراد کو قتل کرنے کے لیے را نے پاکستان میں کئی متوازی ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں جو ماضی میں بھی ایسے کئی قتل کر چکی ہیں۔
یاد رہے کہ 18 مئی کو ضلع بدین کی تحصیل ماتلی میں موٹرسائیکل سوار تین نقاب پوشوں نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے عہدیدار رضا اللہ نظامانی کو تب فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جب وہ حجام کی دکان سے بال کٹوا کر باہر نکل رہے تھے۔ واقعے کے فوری بعد انڈین میڈیا نے اس ٹارگٹ کلنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ پراپیگنڈا کیا کہ پاکستان میں بھارت دشمن جہادیوں کو کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے ایک پریس کانفرنس میں ‘را کا خفیہ نیٹ ورک’ بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’18 مئی 2025 کو ماتلی میں ایک بے گناہ شہری کا قتل ہوا جو علاقے میں فلاحی کاموں کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لیے انٹیلیجنس بیورو اور CTD حرکت میں آئی اور 6 ایسے افراد کو گرفتار کر لیا جو ایک اہم خلیجی ریاست میں مقیم ایک پاکستانی ایجنٹ کے ذریعے ’را‘ سے منسلک تھے۔
انکا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ایسی تخریبی کارروائیوں کے لیے تیار کرنا، بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہرانے حربہ ہے جو پیسے دے کر یہ کام کرواتا ہے۔
اس حوالے سے بی بی سی کے لیے رپورٹنگ کرتے ہوئے سینیئر صحافی ماجد نظامی بتاتے ہیں کہ حافظ سعید کی لاہور میں جوہر ٹاؤن والی رہائش گاہ پر حملے میں ملوث تمام افراد نے بھی خلیج کی اسی ریاست میں وقت گزارا تھا اور انہیں وہیں تیار کیا گیا تھا۔ اسی طرح 2023 میں جیشِ محمد کے رہنما مولانا شاہد لطیف کو بھی را کے لیے کام کرنے والی ہے ایک ایسی ٹیم نے قتل کیا تھا جسے خلیج میں مقیم ایک پاکستانی ایجنٹ کے ذریعے منظم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق نظامانی قتل کیس کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی سنجے سنجیو کمار عرف فوجی نے کی جو را سے وابستہ ہے اور ایک خلیجی ریاست میں رہائش پذیر ہے۔
سی ٹی ڈی کا الزام ہے کہ را نے ‘شیخوپورہ کے رہائشی سلمان ورک کو بھرتی کیا جس نے محمد عمیر ورک نامی شہری سے رابطہ کیا جو نظامانی کے قتل کی واردات کا کمانڈر تھا اور عمیر نے شکیل احمد، محمد سجاد اور محمد عبید نامی شہریوں کے ذریعے رقم تقسیم کی۔ گرفتار ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ سنجے عرف سنجیو کمار سے رابطے میں تھے۔ اس دوران محمد ارسلان نامی پاکستانی شہری سنجے کمار سے خلیجی ریاست میں ملا اور ارسلان نے ہی نظامانی کے قتل کے لیے ڈیتھ سکواڈ کو تمام معاشی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔
کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل نے بتایا کہ ‘ملزمان نے پانچ دن تک ماتلی جا کر ریکی کی اوربہھر واردات کے دن شکیل، عبید اور سجاد تینوں ماتلی روانہ ہوئے۔ ٹارگٹ کلنگ کے دوران عمیر اور سلمان حیدرآباد میں ایک ہوٹل میں ہی رہے اور وہاں سے حملہ آوروں کو ہینڈل کرتے رہے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والے دونوں پستول نائن ایم ایم اور تھرٹی بور، ون ٹو فائیو موٹرسائیکل اور موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔
صحافی ماجد نظامی بتاتے ہیں کہ اگرچہ رضا اللہ نظامانی کے قتل کی تفصیلات آنا باقی ہیں مگر یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جماعت الدعوہ یا لشکرِ طیبہ سے مبینہ طور پر منسلک ہونے والی شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہو۔ ایسے واقعات حالیہ برسوں میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھِی پیش آتے رہے ہیں۔ فروری 2023 میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک ایسے ہی واقعے میں 55 سالہ خالد رضا بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا تعلق 90 کی دہائی میں البدر مجاہدین نامی تنظیم سے رہا تھا مگر نائن الیون کے حملوں کے بعد بیشتر کشمیری عسکریت پسند تنظیموں پر پابندیوں کے بعد انھوں نے عسکریت پسندی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
افغانوں کی ملک بدری سے پاک افغان تعلقات دوبارہ کشیدہ
مارچ 2022 میں کراچی کے علاقہ اختر کالونی میں ’جہادی تنظیم‘ جیش محمد کے رکن مستری زاہد ابراہیم کا قتل ہوا تھا۔ دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان کو فرنیچر سٹور میں نشانہ بنا کر قتل کیا۔ مستری زاہد ابراہیم مبینہ طور پر دسمبر 1999 میں ایک انڈین مسافر جہاز کی ہائی جیکنگ میں ملوث تھے جو قندھار لے جایا گیا تھا۔ ہائی جیکرز نے انڈین جیل میں برسوں سے قید جیش محمد کے بانی سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دو دیگر اہم کمانڈروں مشتاق زرگر اور عمر سعید شیخ سمیت رہا کروا لیا تھا۔
اسی طرح جون 2021 میں لاہور میں جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کے گھر کے باہر ایک کار بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں لشکر طیبہ یا جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو مارنے کی کوشش کی گئی۔ حافظ سعید اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے لیکن چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
