ایران نے خلیج کے 3 اسٹریٹجک جزائر پر نئے میزائل نظام کی رونمائی کردی

ایران کےپاسداران انقلاب نےخلیج کے 3 اسٹریٹجک جزائر پر نئےمیزائل نظام کی رونمائی کرتے ہوئےکہا ہےکہ یہ قریبی ’دشمن کے ٹھکانوں، بحری جہازوں اوراثاثوں‘ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ ہتھیار آبنائےہرمزکےقریب تب الکبریٰ، تونب الصغرہ ور ابوموسیٰ پر تعینات کیےگئےتھے،جو عالمی سطح پر اک اہم شپنگ لین ہے،پاسدران انقلاب نےحال ہی میں اس علاقےمیں فوجی مشقیں کی ہیں۔

ہفتے کو یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خط کا جواب دینے کے لیے تیار ہے جس میں جوہری مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا تھا اورخبردار کیا گیا تھا کہ اگر ایران انکار کرتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جائےگی۔

ایرانی فوج کی نظریاتی شاخ پاسداران انقلاب کے نیول کمانڈر علی رضا تنگسیری نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایک حکمت عملی ہے کہ ہمیں جزائرکےگروپ کو مسلح کرنا ہوگا اور اسے فعال بنانا ہوگا۔

غزہ: اسرائیلی فوج کا حملہ ، حماس کے سیاسی بیورو کے رہنما صلاح البردویل اہلیہ سمیت شہید

 

انہوں نےسرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’ہم خطے میں دشمن کے ٹھکانوں، بحری جہازوں اور اثاثوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

یہ نیا نظام 600 کلومیٹر (370 میل) کے اندر کسی بھی ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔

جمعے کوایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیاں انہیں کہیں نہیں لے جائیں گی اور خبردارکیا کہ اگر انہوں نے ایرانی قوم کی بدنام کرنے کے لیے کچھ بھی کیا تو انہیں سخت تھپڑ رسید کیا جائے گا۔

جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےٹرمپ کےخط کو ’زیادہ خطرہ‘ قرار دیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہےکہ یہ مواقع فراہم کرتا ہے اور کہا کہ تہران آنےوالے دنوں میں اس کا جواب دے گا۔

مشرق وسطیٰ میں امریکا کے سفیر اسٹیو وٹکوف نے جمعے کو نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ اعتماد پیدا کرکےایران کےساتھ مسلح تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ صدر کے خط کا مقصد دھمکی نہیں تھا۔

ایران 1971 سے 3 خلیجی جزائر پرقابض ہے،حالانکہ ان کی خودمختاری کئی دہائیوں سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ متنازع ہے۔

ستمبر میں علی رضا تنگسیری نےکہا تھا کہ ایران جزیروں پراپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے۔

Back to top button