کرایہ داری ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے عرفان صدیقی

“دنیا سے چلے جانے والوں کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا چاہیے۔ ہم سب میں بہت سی کمزوریاں ہوتی ہیں، ہم سب غلطیاں اور کوتاہیاں کرتے ہیں، لیکن انسان کو ایسا کام ضرور کرنا چاہیے جسے اس کے مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جائے۔” سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر اپنی تازہ تحریر "جو بچھڑ گئے” میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما، کالم نگار اور سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مرحوم ایک باوقار لکھاری، استاد اور شفیق انسان تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرفان صدیقی کی وفات نے صحافت، ادب اور سیاست تینوں دنیاؤں کو ایک ساتھ سوگوار کر دیا ہے۔
عرفان صدیقی ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے قلم اور کردار سے ہمیشہ وقار اور متانت کا پرچم بلند رکھا۔ وہ نہ صرف ایک دردمند لکھاری تھے بلکہ اپنی تدریسی، صحافتی اور سیاسی زندگی میں اعتدال، شرافت اور بردباری کی مثال بھی بنے رہے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ عرفان صدیقی سے ان کی پہلی ملاقات 1997 میں ہوئی۔ سیاچن کے محاذ پر جانے کے دوران ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں وہ میرے ہم سفر تھے۔ اُس وقت وہ ہفت روزہ تکبیر سے وابستہ تھے۔ سکردو سے اسلام آباد واپسی کے دوران پرواز منسوخ ہونے پر ہمیں سڑک کے ذریعے سفر کرنا پڑا، اور وہی سفر ہماری گہری دوستی کا آغاز بن گیا۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ استاد، مفکر اور ایک سنجیدہ قاری ہیں جنہیں اقبال، منٹو اور کلاسیکی ادب سے گہرا شغف تھا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ عرفان صدیقی نے ابتدا میں سرسید کالج راولپنڈی میں اردو پڑھائی۔ بعدازاں تدریس چھوڑ کر صحافت سے وابستہ ہو گئے اور جلد ہی اپنی تحریر کے ذریعے معتبر مقام حاصل کیا۔ بعد میں وہ صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کے پریس سیکریٹری مقرر ہوئے، یہاں بھی انہوں نے اپنے وقار اور علمی انداز سے نمایاں کردار ادا کیا۔ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں جب وہ عہدے سے الگ ہوئے تو کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے کالموں میں اقبال کا فلسفہ، سماجی شعور اور سیاسی حقیقت پسندی نمایاں رہتی تھی۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے قریب آئے اور پھر نواز شریف کے تقریر نویس بنے۔ بعدازاں انہیں سینیٹ آف پاکستان کا رکن بنایا گیا۔
حامد میر کے بقول عرفان صدیقی کی خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں رہیں۔ 2015ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق کی تیاری کی ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی۔ انہوں نے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ مختلف میڈیا اداروں اور صحافی نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایسا مسودہ تیار کیا جو بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم سے نافذ ہوا۔ آج پیمرا کا جو ضابطہ اخلاق موجود ہے، اس کی تشکیل میں عرفان صدیقی کا کلیدی کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 2019ء میں جب عمران خان حکومت نے انہیں اپنے مالک مکان کی درخواست پر کرایہ داری ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تو پورے میڈیا نے اس اقدام پر احتجاج کیا۔ اس واقعے نے ان کی شخصیت کی شرافت اور وقار کو مزید نمایاں کر دیا۔ انہوں نے جیل سے رہائی کے بعد بھی کسی کے خلاف تلخی نہیں دکھائی۔ عرفان صدیقی کے ادبی ذوق اور حساس طبیعت کی سب سے بڑی مثال ان کی کتاب "جو بچھڑ گئے” ہے۔ اس مجموعے میں انہوں نے ان شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہیں وہ اپنی زندگی کے قیمتی رشتوں میں شمار کرتے تھے۔ اس کتاب میں ان کی والدہ پر لکھا گیا کالم "آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے” اردو نثر کا ایک خوبصورت مرثیہ سمجھا جاتا ہے۔ علامہ اقبال سے ان کی عقیدت بھی انہی کی والدہ کے ذریعے ان کے دل میں بسی، جو اکثر ان سے اقبال کی نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ سننے کی فرمائش کیا کرتی تھیں۔
سینیٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم میں نئی ترامیم دو تہائی اکثریت سے منظور
حامد میر کہتے ہیں کہ عرفان صدیقی کی شخصیت میں علم، شرافت، نرم گفتاری اور فکری گہرائی ایک ساتھ نظر آتی تھی۔ وہ اقبال کے فلسفے کے عاشق تھے اور ان کی فارسی رباعی ’’تو غنی از ہر دو عالم من فقیر‘‘ ان کے دفتر کی دیوار پر آویزاں تھی۔ وہ ہمیشہ عاجزی، دردمندی اور وقار کے ساتھ جیتے رہے۔ حامد میر کے بقول عرفان صدیقی کے انتقال پر صحافتی، ادبی اور سیاسی حلقے یکساں طور پر افسردہ ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت میں رخصت ہوئے جب ملک کو اُن جیسے متوازن اور صاحبِ بصیرت رہنماؤں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ ان کی زندگی یہ پیغام چھوڑ گئی کہ اختلاف رائے میں بھی وقار، علم اور شائستگی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
ان کی کتاب "جو بچھڑ گئے” اب ان کی اپنی زندگی کا استعارہ بن چکی ہے۔ ایک ایسی کتاب جس نے ان کے قلم کو امر کر دیا، اور شاید آنے والی نسلیں عرفان صدیقی کو اسی تحریر کے ذریعے یاد رکھیں گی۔
