علیمہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے عمران کا فائدہ کر رہی ہیں یا نقصان؟

 

 

 

عمران خان کی میڈیکل رپورٹس سے یہ ثابت ہو جانے کے باوجود کہ ان کی بینائی چلے جانے کے خدشات سراسر بے بنیاد تھے، ان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور تحریک انصاف کی قیادت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے اپنے گمراہ کن بیانیے پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اسی لیے پی ٹی آئی کی قیادت بھی اس معاملے پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ لیکن حکومت بھی دباؤ میں آکر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور نہ ہی عمران خان کو کسی غیرمعمولی ریلیف دینے کے موڈ میں نظر آتی ہے، جس سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

 

اگلے روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی بیماری کے نام پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے خان کی آنکھ سے متعلق خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، حالانکہ حکومت نے علاج کے لیے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو علاج کی سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسی اصول کے تحت عمران خان کا علاج کرایا جا رہا یے۔

 

وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کو خان کی آنکھ کے معاملے پر مسلسل آن بورڈ رکھا اور ماہر ڈاکٹرز پر مبنی ایک میڈیکل بورڈ سے ان کا علاج کروایا، تاہم علیمہ خان نے عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کی شرط رکھ دی جو قانونی تقاضوں کے مطابق ممکن نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹرز عمران کو ہسپتال بھیجنے کا مشورہ دیتے تو حکومت انہیں ایک نہیں بلکہ دو ہفتے تک بھی ہسپتال میں رکھنے کو تیار تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے اس مسئلے کو لٹکا رہی ہے حالانکہ عمران خان کی آنکھ کا علاج تسلی بخش طریقے سے جاری ہے۔

 

محسن نقوی کے مطابق عمران خان کا معائنہ ماہر امراض چشم پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے 15 فروری 2026 کو کیا۔ بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈرز اور پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹروں کو بھی بریفنگ دی گئی اور ان کے ڈاکٹروں نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا، حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ اگر وہ خود علاج کرتے تو طریقہ کار یہی ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو آنکھ میں انجیکشن احتیاطاً اسپتال لے جا کر لگوایا گیا اور تمام طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، تاہم سڑکیں بند کرنا، ریڈ زون میں کشیدگی پیدا کرنا اور عوام کو مشکلات میں ڈالنا کسی طور درست نہیں۔

 

دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اسلام آباد میں اپنی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیکل رپورٹ کو مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح کے ڈاکٹرز نے بھی اس رپورٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ڈاکٹر عاصم یوسف کی نگرانی میں علاج ہو۔ علیمہ خان نے یہ بھی الزام لگایا کہ فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر عمران خان کو پمز لے جایا گیا۔

 

ادھر ذرائع کے مطابق کل عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ان سے 30 منٹ کی ملاقات کرائی گئی، جس میں صحت سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔ تاہم پارٹی رہنماؤں اور بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ کے حکم پر وکیل سلمان صفدر کی ملاقات بھی کرائی گئی تھی جس کی رپورٹ عدالت میں جمع ہو چکی ہے۔

گنڈاپور کے خلاف ایکشن سے PTI  میں مزید دراڑیں پڑنے کا امکان

ادھر پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے عمران خان کی آنکھ کے معاملے کو غیر ضروری طور پر اچھال کر ان کے لیے ریلیف کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ بعض پارٹی رہنماؤں نے اس معاملے پر جارحانہ احتجاجی حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھرنوں اور احتجاج کے آپشن پر بھی قیادت میں مکمل اتفاق رائے نہیں، جس سے اندرونی تقسیم نمایاں ہو رہی ہے۔

 

Back to top button