ایران اور امریکہ مذاکرات کو بطور ثالث لیڈ کون کر رہا ہے؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایران امریکہ مذاکرات کو لیڈ نہ توفیلڈ مارشل عاصم منیرکررہے ہیں اور نہ ہی شہباز شریف بلکہ اس پوری کوشش میں بنیادی کردار اسحاق ڈار کا ہے جنہیں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مکمل حمایت اور اعتماد حاصل ہے۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جب دنیا ایک ممکنہ عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، ایسے میں پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری نے عالمی منظرنامے پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ اسی تناظر میں سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا ایک بھارتی ٹی وی چینل کو دیا گیا انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کی خوب نمائندگی کی بلکہ ایک طنزیہ سوال کا ایسا مدلل جواب دیا جس نے بحث کا رخ ہی بدل دیا۔ حقیقت میں انھوں نے ایک طنزیہ سوال پر منہ توڑ جواب دے کر بھارتی اینکر کی بولتی بند کر دی۔

انٹرویو کے دوران بھارتی اینکر نے قدرے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے لئے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے قیادت کون کر رہا تھا،شہباز شریف یا عاصم منیر؟ اس سوال پر حامد میر نے مسکراتے ہوئے نہایت پراعتماد انداز میں جواب دیا کہ وہ اس سوال کی توقع کر رہے تھے، تاہم حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انھوں نے اپنے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس پورے سفارتی عمل میں بنیادی کردار وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا تھا، جنہیں وزیر اعظم اور عسکری قیادت کی مکمل حمایت اور اعتماد حاصل تھا۔ حامدمیر نے تفصیل سے بتایا کہ مارچ کے اوائل میں اسحاق ڈار نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا، جس کے بعد انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتکاری کی۔ اس دوران پاکستان نے نہ صرف مختلف ممالک سے رابطے کیے بلکہ چین جیسے اہم عالمی کھلاڑی کو بھی اس عمل میں شامل کیا۔

حامد میر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے نہ صرف امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں بلکہ ایرانی صدر اور لیڈرشپ کے ساتھ بھی ان کے روابط خاصے مضبوط اور بااعتماد نوعیت کے ہیں۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی قیادت کے چین کے ساتھ بھی گہرے اور برادرانہ تعلقات ہیں جو پاکستان کو ایک منفرد حیثیت کا حامل ملک بناتے ہیں کہ وہ بیک وقت تینوں اہم فریقین کے ساتھ متوازن اور مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حامد میر کے بقول پاکستانی قیادت کے امریکہ، ایران اور چین کے ساتھ بیک وقت مثبت تعلقات نے اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک سہولت کار بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا اور 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بن گئے۔ حامد میر کے مطابق پاکستان ان مذاکرات میں سہولت کار کی بجائے ثالث بن جائے گا۔

حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے کردار کو نہ صرف امریکی و ایرانی لیڈر شپ بلکہ پوری دنیا سراہ رہی ہے، ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اور سہولت کارکی وضاحت کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں دو سے تین فریق تھے ،امریکا اور اسرائیل ایک طرف جبکہ دوسری جانب ایران تھا تاہم بعد ازاں کچھ عرب ممالک نے بھی امریکا اور اسرائیل کو جوائن کرلیا تھا کیونکہ ایران عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کررہا تھا،حامد میر کے بقول ثالث کیلئے ضروری ہے کہ اس کے تمام فریقوں سے تعلقات ہوں ،پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تو تعلقات نہیں ہیں ،تاہم پاکستان کو امریکا اور ایران تک رسائی حاصل تھی،پاکستان مذاکرات میں امن اقدام کے تحت سہولتکاری کررہا تھا جو کہ جنگ شروع ہونے کے فوری بعد شروع ہوچکی تھی جس میں بعد ازاں ترکی اور مصر بھی شامل ہوگئے تھے ۔پاکستان نے جنگ شروع ہوتے ہی تمام فریقوں بشمول عرب ممالک کے رابطے شروع کردئیے تھے جبکہ ایران سے درخواست کی تھی کہ چونکہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اس لیے اس کی تنصیبات پر حملے نہ کیے جائیں،حامد میر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور بعض غیر سفارتی زبان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا، تاہم چین کی مداخلت کے بعد ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔ اس تمام عمل میں پاکستان نے پس پردہ رہتے ہوئے نہایت حکمت عملی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔  مسلسل کوششوں کے بعد ایران اور امریکہ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے لبیک کہا اور مشرق میں جنگ بندی ہو گئی۔

بھارتی صحافی کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ٹوئٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں حامد میرنے نہلے پر دہلا پھینکتے ہوئے جواب دیا کہ اگر آپ کے مطابق یہ ٹوئٹ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک ہدایت تھی تو آپ ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے متعلق کیا کہیں گے جنہوں نے اپنے بیان کا اختتام "پاکستان زندہ باد”پر کیا؟۔حامد میر کا اینکر کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ آپ پسند کریں یا نہ کریں اس وقت پاکستان کو امریکا اور ایران کا بھرپور اعتماد حاصل ہے اور اسی لئے جہاں ایرانی عوام سڑکوں پر پاکستانی پرچم تھامے اظہار تشکر کررہی ہیں وہیں امریکی صدر ٹرمپ بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سراہ رہے ہیں جبکہ ایرانی قیادت بھی پاکستان کی ستائش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ دو برسوں میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں، جس کا کریڈٹ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو دیا۔ ان کے بقول، خامنہ ای نہ صرف پاکستان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی رکھتے تھے بلکہ انہوں نے بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف بھی پاکستان کی مدد کی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید مضبوطی آئی۔

Back to top button