27 ویں ترمیم کے بعد عمران کی سیاسی منظر نامے پر واپسی ناممکن؟

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے عمران خان کی ملکی سیاست میں واپسی کے امکانات تقریباً ختم کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق اس ترمیم کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی منظرنامے سے باہر رکھا جائے اور ہائبرڈ نظام کو وہ آئینی تحفظ فراہم کیا جائے جس کی غیر رسمی شکل عمران کے اپنے دور حکومت میں متعارف کروائی گئی تھی۔
ڈان اخبار کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عباس ناصر لکھتے ہیں کہ 26ویں ترمیم خوف کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔ خوف یہ تھا کہ کہیں سپریم کورٹ جیل میں بند خان کو رہا نہ کر دے یا 2024 کے الیکش کو کالعدم قرار نہ دے دیا جائے۔ ان کے مطابق 27ویں ترمیم اسی سوچ کا سفر ہے جس نے نہ صرف پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر مبنی ہائبرڈ ڈھانچے کو باضابطہ قانونی شکل دے دی بلکہ اس کے طاقتور فریق کے کردار کو مزید مضبوط بھی بنا دیا ہے، یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بعد اب جنرل عاصم منیر تاحیات فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز رہیں گے چاہے اس دوران حکومتیں آتی اور جاتی رہیں۔
اپنے تجزیے میں عباس ناصر یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی عدالتی تاریخ ہمیشہ سے طاقتور فوج کے دباؤ میں رہی ہے۔ سپیکر مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر حالیہ برسوں میں وزرائے اعظم کی برطرفیوں تک اعلیٰ عدلیہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی کھڑی دکھائی دی۔ جنرل ضیاء الحق کو وردی میں منتخب کرنے کا فیصلہ ہو یا جنرل مشرف کو آئینی ترامیم کا اختیار دینے کا فیصلہ ہو پاکستانی عدلیہ نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے دلال کا کردار ادا کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کے چند سالوں میں عدالتی آزادی کے سوا ہماری تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا کہ عدالتوں نے مزاحمت دکھائی ہو اور ائین اور قانون کے مطابق فیصلے دیے ہوں۔
عباس ناصر کا کہنا ہے کہ نئی آئینی ترمیم نے ہائبرڈ نظام حکومت ہونے کے باوجود تمام اختیار اور فیصلہ سازی عملی طور پر ایک ہی فرد کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر اس وقت آرمی چیف کے علاوہ فیلڈ مارشل بھی ہیں اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز بھی ہیں اور انہیں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا سربراہ مقرر کرنے کا اختیار بھی مل گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب عالمی سطح پر انسانی حقوق پہلے ہی دباؤ میں ہیں، پاکستان میں کمزور معیشت، دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے اور سیاسی عدم استحکام نے اس نئے نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کا دارومدار صرف معاشی بہتری، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر ہے، مگر پاکستانی عوام کو دہائیوں سے ان بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔
عباس ناصر کہتے ہیں کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے اپوزیشن پر اثرات خاصے گہرے ہوں گے۔ ان کے مطابق نئے حالات میں عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات تقریبا ختم ہو گئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی احتجاجی کالز ناکام رہی ہیں چونکہ اب لوگوں نے سڑکوں پر نکلنا چھوڑ دیا ہے، آئینی ترامیم کے ذریعے ان کے لیے عدالتوں سے ممکنہ ریلیف کا راستہ بھی بند ہو گیا ہے اور فوج میں موجود ان کے ہمدرد عناصر کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں عمران خان کے لیے سیاسی اور قانونی ریلیف کے امکانات تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
عمران دور میں فیض حمید نے بشریٰ کو اپنے جال میں کیسے پھنسایا؟
عباس ناصر لکھتے ہیں کہ عمران خان کے قریبی ساتھی شکایت کرتے ہیں کہ انکے لیے انکے لیڈر تک جیل میں رسائی بڑی مشکل بنا دی گئی ہے، اس لیے پارٹی کا اگلا لائحۂ عمل ترتیب دینا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور پارٹی انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ عمران کے حامی اب بھی انہیں ثابت قدم قرار دیتے ہیں، لیکن 27ویں ترمیم کے بعد سیاسی منظرنامہ جس تیزی سے تبدیل ہوا ہے، اس میں ان اصولوں کا عملی فائدہ محدود سے محدود تر ہو گیا ہے کیونکہ اب موجودہ سیٹ اپ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ باقی نہیں رہا ہے۔
اپنے تجزیے کے اختتام پر عباس ناصر واضح کرتے ہیں کہ 27ویں آئینی ترمیم نے پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں عمران خان کی سیاست میں واپسی کے دروازے تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ یہ ترمیم نہ صرف ہائبرڈ نظام کو تحفظ دیتی ہے بلکہ اس سیاسی راستے کو بھی مسدود کرتی ہے جس سے کوئی فرد یا جماعت دوبارہ ایک طاقتور قوت بن کر ابھر سکے۔
