کیا واقعی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ زندہ ہیں؟

 

 

 

عالمی میڈیا میں یہ افواہ اب زور پکڑتی جا رہی ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای درحقیقت زندہ ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے امریکہ و اسرائیل کو گمراہ کرنے کیلئے خامنہ ای کے کسی ہم شکل یا قریبی فرد کو سامنے لایا گیا تھا جو حملوں کا نشانہ بنا۔ اس مؤقف کے مطابق اصل ایرانی سپریم لیڈر تاحال حیات ہیں اور زیرزمین کسی خفیہ محفوظ مقام پر رہائش پذیر ہیں جنہیں وقت آنے پر عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملوں کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آئی تو عالمی میڈیا میں ہلچل مچ گئی۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس خبر کی تصدیق بھی کی گئی، مگر اس کے باوجود عالمِ اسلام کے کئی حلقے اب تک اسے مکمل حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے سوال کے گرد گھوم رہی ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے: کیا آیت اللہ علی خامنہ ای واقعی زندہ ہیں یا شہید ہو چکے ہیں، یا دنیا کے سامنے آنے والی خبر کے پیچھے کوئی اور حقیقت پوشیدہ ہے؟

 

اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حملے میں نشانہ بننے والے واقعی خامنہ ای تھے، یا دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے ان کے کسی ہم شکل یا قریبی فرد کو سامنے لایا گیا تھا جو امریکا اور اسرائیل کا نشانہ بنا۔مبصرین کے مطابق تاریخی طور پر طاقتور سیاسی رہنماؤں کی حفاظت کے لیے ایسی حکمت عملیاں استعمال ہونے کی مثالیں موجود ہیں، جس نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔اسی پس منظر میں یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا دنیا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بارے میں جس خبر کو حقیقت سمجھ رہی ہے، وہ واقعی مکمل سچ ہے یا اس کہانی کا اصل رخ ابھی سامنے آنا باقی ہے؟

مبصرین کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت بارے خبر سامنے آتے ہی نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ عراق سے لے کر وسطی ایشیا اور پاکستان تک مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ تاہم دوسری جانب بعض حلقے اس پیشرفت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے بھی نظر آئے۔ ان حلقوں کے مطابق اگر واقعی آیت اللہ خامنہ ای جیسی مرکزی اور طاقتور شخصیت شہید ہو جاتی تو ایرانی حکومت نہ صرف اس کا فوری طور پر واضح اور غیر مبہم انداز میں باضابطہ اعلان کرتی بلکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل بھی فوراً شروع کر دیتی تاکہ قیاس آرائیوں کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ تاہم سرکاری سطح پر فوری اور تفصیلی وضاحت سامنے نہ آنے کی وجہ سے شکوک و شبہات کو تقویت مل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے دشمن کو گمراہ کرنے ایرانی سپریم لیڈر کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی ہم شکل یا قریبی فرد کی ہلاکت کو اصل واقعہ بنا کر پیش کیا گیا ہو تاکہ اسرائیل و امریکہ کی جانب سے سامنے آنے والے مسلسل حملوں سے انھیں بچایا جس سکے

 

مبصرین کے مطابق تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسے کئی واقعات سامنے آتے ہیں جہاں عالمی رہنماؤں نے اپنی حفاظت کے لیے ہم شکل افراد کا استعمال کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے رہنما ایڈولف ہٹلر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بعض عوامی مواقع پر ہم شکل افراد کو استعمال کرتے تھے تاکہ ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے۔ اسی طرح عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بارے میں بھی مشہور تھا کہ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے متعدد ہم شکل افراد تیار کیے تھے جو خطرناک مواقع پر ان کی جگہ نظر آتے تھے۔ سوویت یونین کے دور میں بھی بعض طاقتور رہنماؤں کے لیے اس طرح کی حکمت عملی اختیار کیے جانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

 

ان مثالوں کی بنیاد پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ اور سیاست میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ، اطلاعاتی حکمت عملی اور دشمن کو گمراہ کرنے کے حربے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بڑے رہنما کی ہلاکت یا اس سے متعلق متضاد اطلاعات بعض اوقات سیاسی یا عسکری حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔تاہم دوسری جانب یہ حقیقت بھی ہے کہ موجودہ دور میں معلومات کو مکمل طور پر چھپانا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ سیٹلائٹ نگرانی، عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کے تیز رفتار نظام کے باعث کسی بھی بڑے واقعے کی خبر لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح جدید انٹیلی جنس نظام بھی ایسے واقعات کی تصدیق یا تردید نسبتاً کم وقت میں کر دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے لیے ایران میں وینزویلا ماڈل لانا ممکن کیوں نہیں؟

اسی لیے بعض دیگر مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ابتدائی طور پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آنا فطری عمل تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے حقیقت زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق اور عالمی سطح پر سامنے آنے والی اطلاعات اس بات کی غماز ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت محض افواہ یا نفسیاتی جنگ نہیں بلکہ ایک حقیقی پیشرفت ہے۔ تاہم بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت کا انتظار کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ وقت ہی اس سوال کا حتمی جواب دے گا کہ آیا دنیا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت بارے جس خبر کو حقیقت سمجھ رہی ہے وہ واقعی مکمل سچ ہے یا اس کہانی کا کوئی اور پہلو ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

 

Back to top button