کیا خاموشی سے مودی پاکستان کے خلاف کوئی نئی منصوبہ بندی کر رہا ہے ؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے واضح اعلان کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سیز فائر میں امریکی کردار اس لیے تسلیم نہیں کر رہی کہ وہ دوبارہ سے پاکستان پر حملے کا سوچ رہی ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات سے 10 مئی کی دوپہر تک جنگی جھڑپوں کے دوران میری تمام تر توجہ کا مرکز مریکی صدر ٹرمپ رہا۔ 7 مئی کے روز اسے جب پاکستان کے تین اہم شہروں میں واقع مساجد اور مدارس پر میزائل حملوں کی خبر ملی تو کیمروں کے روبرو کندھا اچکاتے ہوئے موصوف نے کمال بے اعتنائی سے اس خیال کا اظہار کیا کہ مذکورہ حملوں کے ذریعے بھارت نے اپنا حساب برابر کر دیا ہے۔ گویا انڈیا نے پہلگام پر ہوئے دہشت گرد حملے کا بدلہ لے لیا۔ اس کی دانست میں ’’ادلے کا بدلہ‘‘ ہوجانے کے بعد دونوں ممالک کو اب مزید جھڑپوں میں الجھنے کے بجائے مذاکرات کی جانب بڑھنا چاہیے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا یہ بیان مجھے سخت ناپسند آیا۔ میں حیران ہوا کہ "Tit for Tat” کہتے ہوئے اس نے درحقیقت اس بھارتی الزام کو درست قرار دیا ہے کہ پہلگام میں دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ الزام کی مسلسل تکرار کے باوجود آج تک بھارت نے، دنیا تو گئی بھاڑ میں، اپنے عوام کے روبرو بھی کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جو یہ سوچنے کو مجبور کرے کہ پاکستان پہلگام میں ہوئی واردات کا ذمہ دار ہے۔ انڈیا کی جانب سے جو الزام بارہا دہرایا گیا اس کے جواز میں پاکستانی فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کی وہ تقریر دہرائی جاتی رہی جو انہوں نے اسلام آباد میں ہوئے ایک اجتماع کے دوران کی تھی۔ اس خطاب کے ذریعے دو قومی نظریہ کی مبادیات کو پرجوش انداز میں دہرایا گیا تھا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے تاریخی موقف کا ذکر بھی ہوا۔ لیکن اس تقریر میں ایک بھی ایسا فقرہ نہیں تھا جو یہ عندیہ دے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کشمیر کی خاطر جلد ہی کچھ کرنے کو بے تاب ہے۔ لیکن آرمی چیف کے خطاب کو سیاق وسباق سے ہٹا کر پہلگام حملے سے جوڑ دیا گیا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف الزام تراشی کے باوجود بھارتی حکومت کا فرض تھا کہ پہلگام واقعہ کے جھوٹے یا سچے ذمہ داروں کو اپنے عوام کے روبرو پیش کرتی۔ ان سے لئے ’’اعترافی بیانات‘‘ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات ہوئے حملوں کا جواز فراہم کرسکتے تھے۔ ابتداََ اس حملے کی ذمہ داری The Resistance Front نامی ایک گروپ کے سر تھونپ دی گئی۔ چار افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ان میں سے دو مقامی اور دو پاکستانی بتائے گئے۔ پہلگام نہایت خوب صورت مگر دشوار گزار پہاڑی گھاٹی ہے۔ لیکن یہ پاکستان کو کشمیر سے ملانے والی لائن آف کنٹرول سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہے۔ دہشت گردی کے ذمہ دار افراد جن کی تصاویر دکھائی جارہی تھیں وہ ریاستی وسائل کے بھرپور استعمال سے گرفتار کئے جاسکتے تھے۔ تقہم ہمیں بتایا گیا کہ دہشت گرد غاروں میں رہنے کے عادی ہیں اور پہلگام کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ کہانی میں یہ مضحکہ خیز دعوی بھی کیا گیا کہ دہشت گرد اصل میں چینی ساختہ الٹرا فون استعمال کررہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ فون کا جدید ترین ورڑن ہے جس کے ذریعے ہوئی گفتگو کو انٹرسپٹ کرنا ممکن نہیں۔ گویا پاکستان کے ساتھ چینی ٹیکنالوجی کو بھی دہشت گردی کا ساجھے دار بنادیا گیا۔
پاکستان پر پہلے بھارتی حملے کے بعد امریکی صدر اور ان کے نائب صدر دونوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے ایشوز میں الجھنا نہیں چاہتے اور دونوں ملک خود اپنے مسائل کو حل کریں۔ لیکن 9 مئی کی رات سے پاکستان کے جوابی حملوں کے بعد ٹرمپ کے بقول وہ اور انکے نائب صدر رات بھر سوئے نہیں۔ نائب صدر وینس نے بھارتی وزیر اعظم سے طویل گفتگو کی جس کے بعد ٹرمپ نے سیز فائر کا اعلان کر دیا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اپنے ہم منصب سیاسی اور فوجی حکام سے مسلسل رابطے میں رہا۔ اس کے باوجود بھارت یہ دعویٰ کئے چلا جارہا ہے کہ اس نے ٹرمپ کے ’’حکم پر‘‘ جنگ بندی نہیں کی اور جنگ بندی کی فریاد پاکستان سے آئی تھی جو براہموس میزائل سے گھبرا گیا۔
خضدار خودکش حملے میں آرمی افسران کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 10 مئی کے بعد ٹرمپ کی جانب سے بھارتی حکومت ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی مسلسل یاد دلایا جارہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے دو ازلی نیوکلیئر دشمنوں کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ اس نے رکوائی ہے۔ لیکن دنیا انکی کوششوں کو کھل کر سراہ نہیں رہی۔ بھارت نے ٹرمپ کے سیز فائر اعلان کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایسی ہی خاموشی مودی حکومت نے ان دنوں بھی اپنائے رکھی جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو وائٹ ہائوس بلاکر ٹرمپ نے 2019 میں یہ ’’انکشاف‘‘ کیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے جاپان کے شہر اوساکا میں اس کے ساتھ تنہائی میں ہوئی ایک ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی فرمائش کی ہے۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی اور بھارت نے نہایت مکاری کے ساتھ اپنی افواج کو سری نگر بھجوانا شروع کردیا۔پوری تیاری کر لینے کے بعد 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے لداخ کو اس سے الگ کر دیا گیا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ علاقوں کو براہ راست دلی کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کے ذکر کے بعد 5 اگست 2019 کے روز ہوئی کارروائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے میرا دماغ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں مصروف ہے کہ کہیں اس مرتبہ ٹرمپ کے جنگ رکوانے کے دعوے کو ’’جھوٹا‘‘ ثابت کرنے کے لئے بھارت کہیں دوبارہ پاکستان پر حملے کا منصوبہ تو نہیں بنا رہا۔
