کیابریت پربربیت کےبعدشاہ محمودقریشی رہا ہونے والے ہیں؟

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تحریک انصاف کے مفاہمتی دھڑے کے قائد شاہ محمود قریشی کی سانحہ 9 مئی کے حوالے سے قائم مقدمات میں بریت کا سلسلہ جاری ہے اس وقت تک شاہ محمود قریشی 3 مختلف مقدمات میں بری ہو چکے ہیں جس کے بعد سیاسی حلقوں میں افواہیں گرم ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل فائنل ہو چکی ہے۔ عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں لمبی قید کی سزا ملنے کے بعد شاہ محمود قریشی کو جلد رہائی مل جائے گی۔ جس کے بعد وہ پارٹی کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طویل قید کی سزا سنائے جانے سے قبل شاہ محمود قریشی جیل سے باہر آ کر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ان کا مؤقف تھا کہ اگر وہ اس مرحلے پر جیل سے باہر آتے تو پارٹی پر گرفت مضبوط کرنے کی بجائے انھیں شدید اندرونی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا اور ممکن تھا کہ پارٹی رہنما ہی ان کے خلاف بغاوت کر دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس انتظار میں تھے کہ عمران خان کے خلاف فیصلہ آ جائے، تاکہ اس کے بعد وہ آسانی سے باہر آ کر پارٹی کا کنٹرول سنبھال سکیں۔ اب توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کو 17سال قید کی سزا نے ان کے پی ٹی آئی پر قبضے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد سے تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی جیل میں قید ہیں۔ ابتدائی طور پر وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید رہے، جبکہ اب وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں کچھ اہم لوگوں نے کوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود سے ایک لمبی ملاقات کی جس میں ان کے مستقبل کے حوالے سے معاملات طے کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے کاغذوں میں شاہ محمود قریشی اسی روز فارغ ہو گئے تھے جب انہوں نےخط لکھ کر پارٹی قیادت کو حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد جب 9 مئی کے کیسز میں تحریک انصاف کی رہنماؤں کو سزائیں ملنا شروع ہوئیں تو شاہ محمود قریشی اور ان کے صاحبزادے زین قریشی کو ہر کیس میں بریت ملتی گئی، چنانچہ عمران خان کی نظر میں شاہ محمود قریشی کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو ڈیل کے بعد کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ہر طرح کی آسائش فراہم کی جا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کھانا میاں محمود الرشید کے گھر سے آتا ہے۔ انہیں اپنے بیٹے زین قریشی اور بیٹی مہربانو قریشی سے مہینے میں دو مرتبہ ملاقات کی سہولت بھی حاصل ہے۔
تاہم شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر کے مطابق انہوں نے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی اور وہ اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ محمود کو سائفر سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن سائفر کیس میں بریت کے بعد شاہ محمود قریشی کا نام 9 مئی جی ایچ کیو کیس میں ڈال دیا گیا جس کے بعد ہم نے عدالت میں درخواست دائر کر کے پوچھا کہ شاہ محمود قریشی پر کتنے مقدمات درج ہیں۔ وکیل کے مطابق ہمیں عدالت میں بتایا گیا کہ شاہ صاحب پر 9 مئی کے حوالے سے 6 مقدمات درج ہیں۔ جب ان کیسز میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی گئی تو حکومت نے 9 مئی کے چکر میں انکے خلاف 9 مزید کیسز کھول کر ان کی گرفتاری ڈال دی۔ انکا کہنا تھا کہ لاہور میں شاہ محمود کے خلاف کل 14 کیسز درج ہیں لہذا ان پر ڈیل کا الزام لگانا سراسر نا انصافی ہے۔ شاہ محمود کے وکیل نے 9 مئی کے مقدمات میں ان کی ضمانتوں کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ وہ 7 سے 9 مئی 2023 تک لاہور میں موجود ہی نہیں تھے، وہ اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے کراچی میں تھے، آغا خان ہسپتال کے ریکارڈ اور ان کی سفری دستاویزات کی بنیاد پر عدالتوں نے شاہ صاحب کو 9 مئی کے مقدمات سے بری کر دیا، چنانچہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ کسی ڈیل کی وجہ سے بری ہو رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ محمود قریشی تمام مقدمات سے بری ہو جاتے ہیں تو وہ پاکستان تحریک انصاف میں دوبارہ متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم پارٹی کے اندر ان کے لیے مشکلات ختم نہیں ہوں گی، علیمہ خان کسی صورت شاہ محمود قریشی کے سیاسی وجود کو قبول نہیں کریں گی کیونکہ علیمہ خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا کو پارٹی میں ایک فرنٹ مین کے طور پر آگے لایا گیا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ محمود قریشی کی رہائی کے بعد پی ٹی آئی میں مزید گروپنگ اور انتشار سامنے آ سکتا ہے کیونکہ پاکستانی سیاست میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی رہنما قربانی دے کر آزاد ہو کر واپس آتا ہے تو اسے نظرانداز کرنے یا اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق شاہ محمود قریشی کو رہائی کے بعد درپیش ممکنہ مشکلات اپنی جگہ، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی رہائی کی راہیں مزید ہموار ہوتی جا رہی ہیں۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں ملوث نہ ہونے کے باوجود شاہ محمود قریشی کو اتنا لمبا عرصہ جیل میں رکھ کر طویل قانونی کارروائی میں کیوں الجھایا گیا۔ سچ جو بھی ہو، شاہ محمود قریشی کو بریت کے بعد کپتان کے ساتھیوں کی جانب سے غداری کے الزامات کا سامنا لازمی کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ شاہ محمود اپنے سیاسی کیریئر کے دوران تقریبا ہر سیاسی جماعت کا حصہ رہے ہیں۔ شاہ محمود کا تعلق ملتان کے ایک بااثر سیاسی خاندان سے ہے، جو صدیوں سے جنوبی پنجاب کی سیاست اور روحانی گدی نشینی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انکے والد مخدوم سجاد حسین قریشی جنرل ضیا کے مارشل لا دور میں 1985 سے 1988 تک پنجاب کے گورنر رہے۔مخدوم سجاد حسین قریشی کی قیادت نے قریشی خاندان کو ملتان میں ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ فراہم کیا، جو شاہ محمود کے لیے سیاسی میدان میں کامیابی کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنا۔ شاہ محمود کے دادا مخدوم مرید حسین قریشی بھی سیاسی طور پر فعال تھے اور قیام پاکستان سے قبل قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ شاہ محمود قریشی کے خاندان کی روحانی حیثیت اور زمینداری نے انہیں ملتان کے علاقے میں ایک اہم مقام عطا کیا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے خاندان کی سیاسی اور روحانی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
PTIکی کال پر عوام سڑکوں پر آنے سے انکاری کیوں؟
ماضی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا حصہ رہنے والے شاہ محمود نے اپنے کیریئر کا آغاز 1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں صوبائی اسمبلی کا رکن بن کر کیا۔ انکی شاطرانہ سیاست نے انہیں دو بار وزیر خارجہ کے عہدے تک پہنچایا۔ شاہ محمود نے اپنے خاندان کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی بیٹی مہربانو قریشی اور بیٹے زین قریشی کو بھی سیاست میں متعارف کرایا۔ اس پر ان کے مخالفین نے موروثی سیاست کے الزامات عائد کیے، تاہم ان کی سیاسی حکمتِ عملی اور ملتان میں مضبوط عوامی بنیاد نے قریشی خاندان کو ملتان کی سیاست میں ایک اہم کردار کے طور پر برقرار رکھا ہے۔
