کیا آئینی ترمیم صرف عمران کو جیل میں رکھنے کے لیے ہو رہی ہے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آج بھی پاکستان کا آئین امریکہ کے آئین سے بہت بہتر ہے لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں آئین پر عمل نہیں ہوتا اور ہر حکمران اپنی مرضی سے آئین کا حلیہ بگاڑنا شروع کر دیتا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ آپ آئین پاکستان کی دفعہ 38 کو بار بار پڑھیں۔ اس دفعہ کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ ریاست کسی بھی جنس ، ذات اور نسل سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے دولت اور ذرائع پیداوار کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو روکے گی۔ اس آئینی دفعہ کی دوسری ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ملک میں دستیاب ذرائع، وسائل کے مطابق ہر شہری کو روزگار فراہم کرےگی ۔دفعہ 38 کی تیسری ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ہر شہری کو سوشل سیکورٹی اور لازمی سوشل انشورنس بھی فراہم کرے گی اور دفعہ 38 کی چوتھی ذیلی شق کہتی ہے کہ ریاست ہر شہری کو روٹی ، کپڑا اور مکان بھی فراہم کرئےگی۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ لہذا میرا یہ موقف ہے کہ پاکستان کا آئین امریکا کے آئین سے بہتر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس آئین کی جن دفعات سے طاقتور لوگوں کے مفادات وابستہ ہیں اُن پر تو عمل درآمد ہوتا ہے اور طاقت کے چند ہاتھوں میں مزید ارتکاز کیلئے آئین میں بار بار ترمیم بھی کی جاتی ہے لیکن آئین کی جن دفعات کا تعلق عام آدمی کی فلاح سے ہے ان دفعات پر نہ عمل ہوتا ہے اور نہ عام آدمی کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے کوئی نئی ترمیم لائی جاتی ہے۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ اگلے روز انہیں پارلیمنٹ کے بلڈنگ میں تین نوجوان ملے جو محمود خان اچکزئی سے ملنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ستائیسویں ترمیم کے بعد پاکستانی آئین مردہ نہیں ہو جائے گا ؟ اس نے اگلا سوال کیا کہ کیا صرف ایک شخص کو جیل میں رکھنے کیلئے آئین کو بار بار بدلنا ملک دشمنی نہیں؟ اس نے سوال کیا کہ کیا اب اس آئین کو آئین کہنا آئین کی توہین نہیں؟ حامد میر کہتے ہیں کہ ایک ہی سانس میں بہت سے سوالات پوچھنے والے نوجوان وکیل سے میں نے بڑے مودبانہ لہجے میں پوچھا کہ جس ادارے کی عمارت میں آپ مجھ سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں اس ادارے کا کیا نام ہے ؟ نوجوان وکیل نے جواب میں کہا کہ اس ادارے کا نام پارلیمنٹ ہے۔

 

حامد میر کے بقول میں نے قدرے بلند آواز میں کہا کہ معاف کیجئے گا، میں تو اس پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ بھی نہیں سمجھتا لیکن پھر بھی یہاں آتا ہوں اور آپ بھی یہاں گھوم رہے ہیں۔جس آئین کو آپ آئین نہیں سمجھتے یہ پارلیمنٹ اُسی آئین کے تحت چلتی ہے لہٰذا جن حالات میں ہم جی رہے ہیں اُنہی حالات میں مجھے اور آپکو بہتری کا کوئی راستہ تلاش کرنا ہے۔ نوجوان وکیل نے کہا ہم محمود خان اچکزئی کو تلاش کر رہے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ محمود خان اچکزئی بنام ریاست پاکستان کیس میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کوئی ترمیم نہیں کر سکتی اور ہم چاہتے ہیں اچکزئی صاحب اسی فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کریں اور ستائیسویں ترمیم کو ختم کرائیں۔ ان نوجوانوں نے مجھ سے کہا کہ آپ ہمیں اچکزئی صاحب سے ملوا دیں۔

 

مجھے ان نوجوان وکلاء کی معصومیت پر بڑا پیار آیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اچکزئی صاحب نے آٹھویں آئینی ترمیم کیخلاف ایک درخواست دائر کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست پر ایک تاریخی فیصلہ تو دیدیا تھا لیکن آٹھویں ترمیم کو آخر کار پارلیمنٹ نے ریورس کیا۔ آٹھویں ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق نے تمام اختیارات پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جنرل ضیا کی دنیا سے رخصتی کے بعد بھی کچھ لوگوں نے جنرل ضیاء بننے کی کوشش کی لیکن آخر کار اٹھارہویں نے آئین پاکستان کے اصل ڈھانچے کو بحال کیا ۔ اٹھارہویں ترمیم کیخلاف ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن راولپنڈی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر سپریم کورٹ کے 17 میں سے 13 ججوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی کوئی ترمیم جمہوریت ، وفاقی پارلیمانی نظام اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں تو سپریم کورٹ ایسی کسی ترمیم کو سٹرائیک ڈاؤن نہیں کر سکتی ۔ جسٹس عظمت سعید سمیت سات دیگر ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کوئی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے تو سپریم کورٹ اُسے سٹرائیک ڈاؤن کر سکتی ہے ۔اگر آپ یہ معاملہ عدالت لیکر جائیں گے تو اس معاملے کو وہی آئینی عدالت سنے گی جو ستائیسویں ترمیم کے تحت قائم ہوئی ہے اور جسے فی الوقت اُسی آئین کا تحفظ حاصل ہے جس آئین کو آپ آئین تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستانی آئین کب تک اقتدار کے پجاریوں کا فٹبال بنا رہے گا؟

حامد میر کے بقول میری بات سُن کر چاروں وکلاء معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ میں نے اُنہیں اچکزئی صاحب کا رابطہ نمبر دیا اور ہاتھ ملا کر آگے بڑھ گیا ۔ میں مجوزہ آئینی ترامیم کے ایک ایسے مسودے کے بارے میں سوچ رہا تھا جو کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم کے سامنے رکھا گیا تھا۔ مجھے بھی یہ مسودہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں کچھ ایسی دفعات اور شقیں بھی شامل تھیں جن کا براہ راست تعلق عام آدمی کے مسائل سے تھا ۔ ایک تجویز یہ بھی تھی کہ 25 اے کے تحت پانچ سے سولہ سال تک کے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔ اس میں سولہ کو اٹھارہ سال کر دیا جائے ۔ ستائیسویں ترمیم کے مسودے میں یہ شق شامل نہیں کی گئی ۔ اُمید ہے کہ اسے اٹھائیسویں ترمیم میں شامل کر لیا جائے گا۔ کیونکہ اٹھائیسویں ترمیم بھی تیار ہے۔ عرض ہے کہ کوئی ایک ترمیم ایسی بھی لے آئیں کہ جس پر عام پاکستانی کو یہ احساس ہو کہ شکر ہے ایک ترمیم ہمارے لئے بھی آگئی۔

 

Back to top button