پاکستانی آئین کب تک اقتدار کے پجاریوں کا فٹبال بنا رہے گا؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ جب تک پاکستانی سیاست دان ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کریں گے، پاکستانی سیاست کو چین نصیب نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ساتھ ساتھ اہلِ سیاست اپنے رویوں میں بھی ترمیم کریں کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی ترمیم ہمارے درد کا مداوا نہیں کر سکے گی۔

 

مجیب الرحمان شامی اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ 1973 کا متفقہ آئین اب 27ویں ترمیم کی زد میں ہے۔  ترامیم کی ایک لمبی فہرست سامنے آ چکی ہے لیکن حکومتی اتحاد کے اندر اختلافِ رائے نے اسے سمیٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بڑی کامیابی کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں ترمیم کا حکومتی منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے افواجِ پاکستان کے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم میں کئی اہم ترین تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ اسکے علاوہ انصاف کے ایوانوں میں بھی بہت ساری ایسی آئینی ترامیم ہونے جا رہی ہیں جنہیں ناانصافی قرار دینے والے انصافیے کم نہیں ہوں گے۔

 

شامی کہتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ دستور کو نافذ ہوئے 50 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا‘ اس دوران اس کی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بنی وہ سب کے سامنے ہے۔ دو بار تو یہ بذریعہ مارشل لاء معطل ہوا‘ برسوں اس پر غنودگی طاری رہی‘ جب جب آئین کی بحالی ہوئی تو ترامیم کے ذریعے اس کا ناک نقشہ بدلا جا چکا تھا۔ کہنے کو تو ستائیسویں ترمیم زیر بحث ہے لیکن ایک ایک بل کا جائزہ لیں تو اس کو کئی ترامیم کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے۔ ستائیسویں ترمیم کا یہ مطلب نہیں کہ ستائیس مقامات پر تبدیلی ہونی ہے‘ آئین کی جو دفعات ترامیم سے متاثر ہوتی رہی ہیں‘ ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ایسے آرٹیکل بھی موجود ہیں جن میں بار بار تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئین کوئی جامد دستاویز نہیں ہے۔ ہر آئین میں بدلتے حالات کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے اور یہ پارلیمنٹ کا حق بھی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی دستور ایسا نہیں جو برسوں سے جوں کا توں چلا آ رہا ہو۔ ہر دستور میں ترمیم یا تبدیلی کا طریقہ بھی باقاعدہ درج ہوتا ہے۔ ہمارے دستور میں بھی اس حوالے سے ایک آرٹیکل موجود ہے جسکے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کی الگ الگ دو تہائی اکثریت ترمیم کی مجاز ہے۔

 

دستور بنانے والوں نے تو یہ بھی لکھ رکھا ہے کہ ایسی کوئی ترمیم کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لائی جا سکے گی۔ اس کے باوجود عدالتوں نے اپنے لیے راستہ نکال لیا ہے اور کسی بھی ترمیم پر غور و خوض کا حق اپنے لیے محفوظ کرا چکی ہیں۔ دستور کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے نام پر عدالت یہ جائزہ لیتی رہی ہے کہ کہیں ترمیم کرنے والوں نے اسے متاثر تو نہیں کر دیا۔ دستور ساز اسمبلی چونکہ اسی کام کے لیے منتخب کی جاتی ہے‘ اس لیے اسکے طے کردہ بنیادی اصولوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا حق بعدازاں منتخب ہونے والی اسمبلیوں کا استحقاق نہیں سمجھا جاتا۔ وہ دستور کی اصل روح کے مطابق ہی ترمیم کا اختیار رکھتی ہیں۔ ”اصل روح‘‘ کا تعین عدلیہ اپنے پاس محفوظ سمجھتی ہے اور کسی بھی دور کی حزبِ اختلاف اس حوالے سے اسے ہلا شیری دیتی چلی جاتی ہے۔ وکلا تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے ادارے بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہتے۔ پاکستان میں بھی اعلیٰ عدالتوں نے دستور کے ساتھ حسبِ توفیق بے تکلفی فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ مارشل لاء کو جواز عطا کرتے ہوئے اسے دستور میں ترمیم کا حق بھی کمال فیاضی سے عنایت فرمائے رکھا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی ملٹری کونسل بھی اس اختیار سے مالا مال ہوئی اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء نے بھی اس کا لطف اٹھایا۔

پاکستانی جمہوریت اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ اس میں حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعلقات ہموار نہیں رہے۔

 

مجیب شامی بتاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی کاوشوں سے 1973 کا دستور وسیع تر اتفاقِ رائے کے ذریعے تشکیل پایا تھا۔ اس دستور کے تحت 1977 میں ہونے والا پہلا الیکشن دھاندلی کے الزامات کا شکار ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں تختہ دار پر لٹکانے کے بعد ضیا نے آٹھ سال بلاشرکتِ غیرے حکومت کر کے غیر جماعتی انتخابات کی بساط بچھائی۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد آئین بحال ہوا تو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو دو دو مرتبہ برطرف کر دیا گیا۔ اس دوران نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی غلطی کی تو الٹا ان کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ جب ججز نے آئین کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کی تو مشرف نے سپریم کورٹ کے ججوں کو نکال باہر کیا‘ موصوف نے نئی سپریم کورٹ تشکیل دے کر ڈوگر کورٹ کے ذریعے اپنے حق میں ”فتویٰ‘‘ جاری کرا لیا۔

 

مجیب الرحمان شامی کے مطابق پاکستانی جمہوریت کی بنیادی کمزوری یہ رہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے دائرے میں کام نہیں کیا۔ حکومت کرنے والوں نے اپوزیشن کا جینا حرام کیے رکھا تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والوں نے حکومت گرانے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ اگر دونوں اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے اور ایک دوسرے کو تسلیم کر کے دستور کے تحت کردار ادا کرتے تو ہماری سیاسی تاریخ بہتر ہوتی۔ آج بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقاتِ کار نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان جیل میں ہیں اور کیسز ان کا پیچھا کر رہے ہیں‘ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار ہے جبکہ سینیٹ‘ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت اس کے پاس ہے‘ لیکن محاذ آرائی زوروں پر ہے۔

 

مختصر یہ کہ فریقین ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ دستور کے تحت معاملات کو چلانے کے بجائے سڑکوں کی سیاست کو جزو ایمان بنا لیا گیا ہے‘ اور تو اور اپوزیشن احتجاجی سیاست کے دوران فوجی اداروں کو بھی نشانہ بنا گزری۔ فوجی تنصیبات پر حملے کرکے پاکستانی سیاست کو اس طرح گدلا کیا گیا کہ الامان الحفیظ۔ چنانچہ حکومت اور اپوزیشن کی ”خانہ جنگی‘‘ جاری ہے۔ ستائیسویں ترمیم منظور ہونے کے بعد اٹھائیسویں‘ انتیسویں اور تیسویں ترمیم کی بھی آ جائے‘ لیکن جب تک اہلِ سیاست ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کریں گے‘ انتخابی عمل کو خوب سے خوب تر کی تلاش کا نام نہیں دیں گے‘ آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کو یقینی نہیں بنائیں گے‘ جیتنے اور ہارنے والے اپنی اپنی حدود میں نہیں رہیں گے‘ پاکستانی سیاست کو چین نصیب نہیں ہو گا۔

آئینی ترمیم سے پارلیمنٹ کی بجائے فوج کیسے سپریم ہو جائے گی؟

مجیب شامی کا کہنا ہے کہ دل کے درد کا علاج سر پر بام لگا کر نہیں کیا جا سکتا۔ آئین میں ترمیم کے ساتھ ساتھ اہلِ سیاست اپنے رویوں میں بھی ترمیم کریں۔ اس کے بغیر کوئی بھی ترمیم ہمارے درد کا مداوا نہیں کر سکے گی۔

 

 

Back to top button