سمارٹ واچز اور بینڈز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہونے والا ہے؟

 

 

 

پاکستان میں ٹیکنالوجی کی درآمدات پر ٹیکس نظام ایک بار پھر سخت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایپل، سام سنگ، شاؤمی اور دیگر برانڈز کی سمارٹ واچز، بینڈز اور اسمارٹ رِنگز کے لیے نئی کسٹمز ویلیوز اور کیٹیگریز متعارف کرا دی ہیں تاکہ انڈر انوائسنگ پر قابو پاتے ہوئے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی جانب سےسمارٹ واچز، بینڈز اور اسمارٹ رِنگز کی نئی کسٹمز ویلیوز مختص کرنے کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی مصنوعات مزید مہنگی ہو جائیں گی اور آنے والے دنوں میں ان کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے درآمدی سمارٹ ڈیوائسز پر ٹیکس نظام کو مزید سخت کرتے ہوئے سمارٹ واچز، سمارٹ بینڈز اور سمارٹ رِنگز کی نئی کسٹمز ویلیوز جاری کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن کی جانب سے کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق دنیا بھر سے پاکستان درآمد ہونے والی تمام نان جی ایس ایم ویئرایبل ڈیوائسز پر ہوگا۔

 

واضح رہے کہ نان جی ایس ایم ڈیوائسز سے مراد وہ اسمارٹ واچز اور بینڈز ہیں جو سم کارڈ سپورٹ نہیں کرتیں اور صرف بلیوٹوتھ یا وائی فائی کے ذریعے موبائل سے منسلک ہو کر کام کرتی ہیں۔نئی پالیسی کے مطابق درآمدی برانڈز کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیٹیگری اے میں شاؤمی، ریڈمی، اوپو اور ویوو جیسے درمیانی درجے کے برانڈز شامل ہیں، جن کی کسٹمز ویلیو 5 ڈالر فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ کیٹیگری بی میں ڈینی، فاسٹر، رونن اور زیرو جیسے برانڈز شامل ہیں جن کی ویلیو 3 ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ کیٹیگری سی میں سستے برانڈز شامل ہیں جن کی قیمت 1.5 ڈالر فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے مہنگے اور پریمیئم برانڈز جیسے ایپل اور سام سنگ کو اس درجہ بندی سے الگ رکھا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ان برانڈز پر ٹیکس ان کی اصل بین الاقوامی مارکیٹ ویلیو کے مطابق لگایا جائے گا، جو باقی کیٹیگریز سے کہیں زیادہ ہے۔

 

حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ بعض درآمد کنندگان اشیا کی اصل قیمت کم ظاہر کر کے ٹیکس میں کمی کر رہے تھے، جس سے حکومت کو بھاری مالی نقصان ہو رہا تھا۔ اب کم از کم کسٹمز ویلیو مقرر ہونے کے بعد ٹیکس کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا۔ایف بی آر نے اس حوالے سے اپریل 2026 میں امپورٹرز اور تاجروں کے ساتھ ایک اجلاس بھی منعقد کیا تھا، جس میں بین الاقوامی مارکیٹ ریٹس اور درآمدی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، مریم نواز پنجاب پولیس پر کیوں تپ گئیں؟

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں سمارٹ واچز اور دیگر ویئرایبل ڈیوائسز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ان مصنوعات کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر متوسط طبقے پر پڑے گا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق پہلے ہی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث ٹیکنالوجی مصنوعات مہنگی ہو رہی تھیں، اور اب نئی کسٹمز ویلیوز کے بعد ان کی رسائی عام صارف کے لیے مزید مشکل ہو جائے گی۔

 

Back to top button