آئی ایم ایف کا ایک بار پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ

ملکی معیشت ایک بار پھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور اصلاحاتی مطالبات کے نشانے پر آ گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرے، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈی اور ریلیف ختم کرے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کرے۔ اگرچہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار تسلیم کیے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ پائیدار استحکام کے لیے مزید سخت فیصلے ناگزیر ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ٹیکس نیٹ میں مزید وسعت پیدا کرے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھے۔ واشنگٹن میں جاری کردہ اعلامیے میں آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ مالی خسارے پر قابو پایا جا سکے اور گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہ ہو۔آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے تاکہ معیشت پر مالی بوجھ کم ہو اور کاروباری ماحول میں بہتری آ سکے۔ ادارے کے مطابق پاکستان کو اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ یہی عمل صنعتی اور پیداواری شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے پروگرام “ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی” (RSF) کے تحت 22 کروڑ ڈالر کی اضافی منظوری بھی دی گئی ہے۔ ادارے نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان نے کئی اہم معاشی اہداف حاصل کیے ہیں اور معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک رہ سکتی ہے۔ اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے نے یہ بھی پیشگوئی کی کہ رواں مالی سال میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.9 فیصد رہ سکتی ہے جبکہ مجموعی قرضہ ملکی معیشت کے 73.8 فیصد تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اعلامیے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسیوں کو بھی سراہا گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق مرکزی بینک نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھی جس کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور معیشت کو استحکام دینا ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ گھریلو قیمتوں اور اجرتوں پر دباؤ کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی تاکہ مہنگائی دوبارہ بے قابو نہ ہو۔آئی ایم ایف نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مزید اصلاحات اور ایکسچینج ریٹ میں لچک برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ ادارے کے مطابق معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور فارن ایکسچینج مارکیٹ کی وسعت ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکاری شعبے میں سرمایہ کاری کے مناسب معیار کو برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ مالیاتی نظام مستحکم رہ سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی حالیہ ہدایات آنے والے دنوں میں عوام پر مزید مالی دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ توانائی قیمتوں میں ممکنہ اضافے، نئے ٹیکس اقدامات اور سخت مالیاتی پالیسیوں کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم حکومت کے لیے یہ اصلاحات بین الاقوامی مالیاتی اعتماد برقرار رکھنے اور معیشت کو دیوالیہ پن کے خطرات سے دور رکھنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
