سانحہ 9 مئی کے سینکڑوں مقدمات تاحال التواٗ کا شکار کیوں؟

سانحہ 9 مئی 2023 کو تین سال مکمل ہونے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر ملکی سیاست، عدالتی کارروائیوں اور تحریک انصاف کے مستقبل سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں مقدمات، گرفتاریاں، عدالتی پیش رفت اور سزاؤں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے کیسز کے جلد فیصلے کی ہدایت کے باوجود کئی اہم مقدمات تاحال التواء کا شکار ہیں، جس نے سانحہ 9مئی کے مقدمات بارے حکومتی سنجیدگی پر سوالیہ نشانات کھڑے کر دئیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سانحہ 9 مئی 2023 کے بعد شروع ہونے والی قانونی کارروائیوں کو اب تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر پنجاب پولیس نے مقدمات، گرفتاریوں اور عدالتی پیش رفت پر مبنی ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 319 مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں 35 ہزار 962 افراد کو نامزد کیا گیا جبکہ 11 ہزار 367 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 319 میں سے 307 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں جبکہ 12 مقدمات کے چالان اب بھی التواء کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 24 ہزار 595 تحریک انصاف کارکنوں کو نامعلوم ملزمان کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بانی چیئرمین تحریک انصاف اور پارٹی کی مرکزی قیادت تقریباً تمام مقدمات میں نامزد ہے۔ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ 9 مئی سے متعلق کیسز میں تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بھی قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم اب تک صرف 22 مقدمات کا فیصلہ ہو سکا ہے جبکہ تین سال گزرنے کے باوجود بیشتر کیسز کے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے اور وہ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
راولپنڈی ضلع سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں 9 مئی کے 12 اہم مقدمات درج ہیں اور تمام مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ جی ایچ کیو گیٹ ون اور گیٹ فور سے متعلق مقدمات کو مرکزی نوعیت کے کیسز قرار دیا گیا ہے، جن میں ابھی تک عدالتی کارروائی مکمل نہیں ہو سکی۔ جی ایچ کیو گیٹ ون کیس میں 119 ملزمان نامزد ہیں، تاہم صرف 44 کے بیانات ریکارڈ ہوئے جبکہ کسی بھی ملزم پر ابھی جرح مکمل نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ راولپنڈی کے 11 مقدمات میں اب تک فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی، جس سے عدالتی عمل کی رفتار پر بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ تمام کیسز ویڈیو لنک اور جیل ٹرائل نوٹیفکیشن کے تحت چلائے جا رہے ہیں تاکہ سیکیورٹی خدشات اور عدالتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق9 مئی سے متعلق بعض مقدمات کی ملٹری کورٹس میں بھی سماعت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق 10 مقدمات کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا گیا جن میں حسان نیازی سمیت 32 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین راشد، سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کو بھی 10 سال قید کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ علامہ حامد رضا، شیخ وقاص، زرتاج گل اور عمر ایوب کو بھی مختلف مقدمات میں 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ دوسری جانب بعض رہنماؤں کو عدالتی ریلیف بھی ملا، جن میں شاہ محمود قریشی کی بریت نمایاں قرار دی جا رہی ہے۔
علیمہ خان کی اپیلوں پرPTIرہنما اڈیالہ آنے سے انکاری کیوں؟
یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے سانحہ 9 مئی سے متعلق تمام مقدمات کے فیصلے چار ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم متعدد اہم مقدمات اب بھی ابتدائی مراحل میں موجود ہیں، جس سے عدالتی نظام کی رفتار اور کیسز کی پیچیدگی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
