علیمہ خان کی اپیلوں پرPTIرہنما اڈیالہ آنے سے انکاری کیوں؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے اندرونی اختلافات اور پارٹی پر قبضے اور اختیار کی جنگ نے پی ٹی آئی کی سیاست کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر ہر منگل کو ہونے والے احتجاجی دھرنوں میں جہاں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان مسلسل پیش پیش نظر آتی ہیں، وہیں پارٹی کی مرکزی قیادت اور منتخب نمائندوں کی محدود شرکت نے سیاسی اور تنظیمی سطح پر ایک واضح خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہی صورتحال اب پارٹی کے اندر بے چینی اور سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ آخر پی ٹی آئی قیادت علیمہ خان کی جانب سے مسلسل اپیلوں کے باوجود متحرک کیوں نہیں ہوتی اور اڈیالہ جیل کے باہر اظہار یکجہتی کیلئےآنے سے انکاری کیوں ہے؟

خیال رہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر گزشتہ کئی ماہ سے ہر منگل کو ہونے والے احتجاجی دھرنے ایک مستقل سیاسی علامت بن چکے ہیں۔ علیمہ خان، جو عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقات نہ کروائے جانے پر مسلسل احتجاج کر رہی ہیں، بارہا پارٹی قیادت کو براہِ راست شرکت کی دعوت دے چکی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جن رہنماؤں کو عمران خان نے سیاسی مقام دیا، وہی مشکل وقت میں میدان میں نظر نہیں آ رہے۔ علیمہ خان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ملک بھر میں ہزاروں عہدیداران موجود ہونے کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر ان کی تعداد انتہائی محدود رہتی ہے، جو پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور متحرک سیاسی قوت پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق بار بار کی اپیلوں کے باوجود قیادت کی عدم دلچسپی کارکنان میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔

ہر منگل کو ہونے والے دھرنے میں اس بار بھی علیمہ خان نے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو شرکت کی دعوت دی، تاہم وہاں صرف محدود تعداد میں رہنما ہی پہنچے۔ موجود رہنماؤں میں سلمان اکرم راجہ، جنید اکبر، شہریار آفریدی، فیصل جاوید، مشعال یوسفزئی اور چند دیگر شخصیات شامل تھیں، جبکہ کئی اہم چہرے غیر حاضر رہے۔پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر مختصر وقت کے لیے اڈیالہ جیل کے قریب تو آئے، تاہم وہ دھرنے میں شامل ہوئے بغیر واپس روانہ ہوگئے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک علامتی غیر شرکت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس صورتحال پر کارکنان کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیرستان سے آئے ایک کارکن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب قیادت اڈیالہ جیل نہیں آتی تو کارکنان کو بھی احساس محرومی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان رہائی پاتے ہیں تو وہ ایسے رہنماؤں کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہوں گے جو مشکل وقت میں ساتھ نہیں کھڑے ہوئے۔علیمہ خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور سے ہر منگل احتجاج کے لیے آتی ہیں، لیکن اسلام آباد میں موجود رہنما اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ پارٹی کے اجتماعی مفاد کے خلاف ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اس معاملے پر مختلف وضاحتیں پیش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق احتجاج اور سیاسی حکمتِ عملی کی ذمہ داری عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپی ہے، اس لیے قیادت اسی حد تک متحرک ہوتی ہے جس حد تک انہیں ہدایت ملتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نظم و ضبط کے تحت فیصلے اجتماعی ڈھانچے کے مطابق کیے جاتے ہیں۔شہریار آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی رہنما اڈیالہ جیل آتے ہیں مگر ہر بار اس کی تشہیر نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور جب بھی کال دی جاتی ہے، وہ حاضر ہوتے ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی میں تنظیمی سطح پر بھی پارٹی کے اندر رابطہ کاری کے فقدان کے آثار نمایاں ہیں۔ مختلف گروپوں کی صورت میں احتجاج میں شرکت اور علیحدہ علیحدہ نشستوں نے احتجاج کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیا ہے، جس سے کارکنان میں مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق علیمہ خان کی مسلسل اپیلوں اور محدود شرکت کے درمیان یہ فرق پی ٹی آئی کے اندرونی تنظیمی ڈھانچے، فیصلہ سازی کے اختیارات اور سیاسی حکمتِ عملی کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے، جو مستقبل میں پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

Back to top button