ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس،پاکستان کا بھارت کیلئے نیا سرپرائز تیار

آسمانوں پر طاقت کی نئی دوڑ، خاموش سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی برتری اور ففتھ جنریشن جنگی طیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے عالمی دفاعی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان جے-35 سٹیلتھ فائٹر سے متعلق حالیہ بیانات نے نہ صرف خطے میں عسکری سرگرمیوں کو نئی بحث دی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ مستقبل کی فضائی جنگیں کس کے ہاتھ میں ہوں گی۔ اسی تناظر میں ففتھ جنریشن طیاروں کی ٹیکنالوجی اور عالمی طاقتوں کی دوڑ کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون میں جدید ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر جے-35 کے ممکنہ کردار نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ پاکستان فضائیہ کی جانب سے “سرپرائز” کے اشارے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ خطے میں فضائی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس جدید جنگی ٹیکنالوجی کا سب سے ترقی یافتہ مرحلہ ہیں، جو نہ صرف دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ میدانِ جنگ میں فیصلہ کن برتری بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ففتھ جنریشن طیارے کن ممالک کے پاس ہیں؟
دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا میں محدود تعداد میں ہی آپریشنل ففتھ جنریشن طیارے موجود ہیں۔ ایئر کموڈور رضا حیدر کے مطابق امریکہ کے پاس ایف-22 ریپٹر اور ایف-35 موجود ہیں۔ روس کے پاس ایس یو-57 ہے جبکہ چین کے پاس جے-20 اور جے-35 جیسے جدید سٹیلتھ فائٹر موجود ہیں۔ یہ تینوں ممالک اس وقت عملی طور پر اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے سمجھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کئی ممالک ایسے جدید طیارے تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں ففتھ جنریشن یا اس کے قریب سمجھے جائیں گے۔ ان میں برطانیہ، اٹلی اور جاپان کا مشترکہ منصوبہ ’ٹیمپسٹ‘، فرانس، جرمنی اور اسپین کا ’ایف سی اے ایس‘ پروگرام، اور ترکی کا ’کے اے اے این‘ منصوبہ شامل ہیں۔ یہ تمام منصوبے اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا تیزی سے اگلی نسل کی فضائی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ففتھ جنریشن طیاروں کی بنیادی خصوصیات کے حوالے سے دفاعی ماہرین نے بتایا کہ ففتھ جنریشن جنگی طیاروں کی سب سے اہم خصوصیت ان کی سٹیلتھ صلاحیت ہے۔ یہ طیارے اپنے خصوصی ڈیزائن اور ریڈار ایبزاربنٹ مواد کی وجہ سے دشمن کے ریڈار پر تقریباً نظر نہیں آتے، جس سے انہیں شناخت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ان طیاروں میں ایویانکس سینسر فیوژن کی جدید ٹیکنالوجی بھی شامل ہوتی ہے، جس کے تحت ریڈار، نیویگیشن اور فائر کنٹرول سسٹم ایک دوسرے سے مکمل طور پر منسلک ہوتے ہیں۔ اس سے پائلٹ کو میدانِ جنگ کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور فیصلہ سازی تیز ہو جاتی ہے۔ ان طیاروں کی ایک اور اہم خصوصیت سپر کروز صلاحیت ہے، جس کے ذریعے یہ طیارے بغیر اضافی فیول کے سپر سونک رفتار سے طویل وقت تک پرواز کر سکتے ہیں۔ اس سے ان کی رینج اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی صلاحیت انہیں زمین، فضا اور دیگر جدید نظاموں جیسے ڈرونز اور ایئر بورن ارلی وارننگ سسٹمز سے مسلسل منسلک رکھتی ہے، جس سے جنگی رابطہ اور ردعمل مزید مؤثر ہو جاتا ہے۔
ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ موجودہ عالمی جنگی حالات میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی اتنی اہم کیوں ہے؟ماہرین کے مطابق جدید جنگی صورتحال میں سب سے اہم چیز دشمن کی نظر سے بچنا ہے۔ سٹیلتھ ٹیکنالوجی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے، کیونکہ یہ طیارے کی ریڈار اور حرارتی شناخت کو کم کر دیتی ہے۔ایلیکس پلیٹساس کے مطابق یہ طیارے اس طرح ڈیزائن کیے جاتے ہیں کہ ریڈار ویوز کو منتشر یا جذب کر لیں، جس سے دشمن کا ریڈار ان کا مکمل عکس حاصل نہیں کر پاتا۔ اسی طرح انجن ڈیزائن، کولنگ سسٹمز اور اندرونی ہتھیاروں کے خانے حرارتی نشان کو بھی کم کر دیتے ہیں، جس سے انہیں تھرمل سینسرز کے ذریعے شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان جے-35 جیسے جدید طیارے کے امکانات نے خطے میں فضائی توازن پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ ابھی اس حوالے سے تفصیلی معلومات محدود ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کسی بھی فضائیہ کو فیصلہ کن برتری دے سکتی ہے۔ایئر کموڈور رضا حیدر کے مطابق ففتھ جنریشن طیارے پائلٹ کو “فرسٹ لاک، فرسٹ شاٹ اور فرسٹ کِل” کی صلاحیت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پائلٹ دشمن کو دیکھے بغیر پہلے حملہ کر سکتا ہے، جو جدید فضائی جنگ میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق ان طیاروں کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل بھی انہیں آسانی سے نشانہ نہیں بنا سکتے، جس سے ان کی بقا کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے بقول پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ خطے میں عسکری توازن پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔ بھارت اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی حکمتِ عملیوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں روایتی زمینی لڑائیوں کے بجائے زیادہ تر فضائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گی، جہاں سٹیلتھ طیارے اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
