ایرانی حملوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے چھکے کیسے چھڑائے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے ایسے مربوط اور شدید حملے کیے جنہوں نے نہ صرف امریکی فوجی اثاثوں، اڈوں اور دفاعی نظام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا بلکہ حقیقت میں امریکی معیشت اور دفاعی صلاحیت کا کباڑہ نکالتے ہوئے اس کو غرور خاک میں ملا دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ یہ نقصان نہ صرف سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے بلکہ اس کے اثرات امریکی فوجی حکمتِ عملی اور خطے میں اس کی موجودگی پر بھی گہرے سوالات اٹھا رہے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ حملے عراق، شام، اردن، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک میں موجود مختلف امریکی اڈوں تک پھیل گئے، جس کے نتیجے میں 15 سے زائد بڑے فوجی اڈے اور مجموعی طور پر 228 سے زیادہ فوجی تنصیبات متاثر ہوئیں۔

واشنگٹن پوسٹ اور سی این این کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کو توقعات سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق، شام، اردن، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت خطے میں واقع 15 سے زائد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 228 سے زائد ملٹری تنصیبات اور ساز و سامان متاثر ہوئے۔رپورٹس کے مطابق بحرین میں موجود ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، کویت میں کیمپ بورنگ اور دیگر اہم تنصیبات پر مواصلاتی نظام، جدید ریڈارز، پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹمز، ٹروپ ہاؤسنگ، ایندھن کے ذخائر، ہوائی جہاز کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو شدید نقصان پہنچا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے خطے میں امریکی دفاعی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے مختلف اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے امریکی دفاعی حکمت عملی پر سوالات اٹھ گئے۔ ان حملوں میں عین الاسد ایئر بیس (انبار، عراق) اور اردن کی سرحد پر ٹاور 22 کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔رپورٹس کے مطابق کویت کے پورٹ شعیبہ پر ایک خودکش ڈرون حملے میں 16 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ مجموعی زخمیوں کی تعداد 400 سے زائد بتائی گئی ہے، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فوجی دماغی چوٹوں (TBI) کا شکار ہوئے، جس کی وجہ دھماکوں کی شدت اور بنکرز کے اندر اثرات کو قرار دیا گیا ہے۔

سی این این کے مطابق ان حملوں میں ایک E-3 سنٹری طیارہ بھی تباہ ہوا جس کی مالیت تقریباً نصف ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ متعدد ریڈار سسٹمز اور ریڈوم ڈھانچے بھی نقصان کا شکار ہوئے۔رپورٹس میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ اور دیگر دفاعی نظام ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام کیوں رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے ڈرونز کی بڑی تعداد (swarm tactics) استعمال کرنا بتایا گیا ہے، جس نے دفاعی ریڈار سسٹمز کو متاثر کیا۔

واشنگٹن پوسٹ اور سی این این کے مطابق ابتدائی اندازوں میں جنگی اخراجات اور نقصانات 25 ارب ڈالر کے قریب تھے، تاہم متاثرہ تنصیبات کی مرمت، دوبارہ تعمیر اور جدید نظام کی تبدیلی کے بعد مجموعی نقصان 40 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق ابھی حتمی تخمینے جاری ہیں اور یہ بھی زیر غور ہے کہ تباہ شدہ اڈوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے یا نہیں، کیونکہ اس سے مجموعی جنگی لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کو نہ صرف مالی نقصان بلکہ خطے میں سٹریٹجک دباؤ اور دفاعی ساکھ کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

Back to top button