بھارت کیلئے چیلنج؟ پاکستان کو جدید سٹیلتھ ٹیکنالوجی ملنے کا امکان

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دفاعی تعاون ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، رپورٹس کے مطابق پاکستان کو چین کے جدید ترین ففتھ جنریشن سٹیلتھ جنگی طیارے J-35A Stealth Fighter کی ممکنہ فراہمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن اور فضائی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین نے اپنے جدید سٹیلتھ طیارے کا ایک ایسا نیا ماڈل تیار کیا ہے جس پر چینی فضائیہ کے بجائے سرکاری ایوی ایشن ادارے کا لوگو موجود ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس طیارے کو برآمد کرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں پاکستان کو اس طیارے کا ممکنہ ابتدائی خریدار قرار دیا گیا ہے، جو پہلے ہی اپنے دفاعی نظام کا بڑا حصہ چین سے حاصل کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگر یہ جدید ففتھ جنریشن طیارہ پاک فضائیہ میں شامل ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس نوعیت کے سٹیلتھ طیارے جدید ریڈار سسٹمز سے بچنے، طویل فاصلے تک حملہ کرنے اور دشمن کے دفاعی نظام کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے خطے کی عسکری صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جدید سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حصول کسی بھی ملک کی فضائی برتری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی حاصل ہوتی ہے تو یہ نہ صرف اس کی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ خطے میں اس کی اسٹریٹجک حیثیت بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاک چین دفاعی تعاون پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، تربیت اور مشترکہ دفاعی منصوبوں میں قریبی شراکت داری موجود ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کو اسی تعاون کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طیارے میں جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز شامل ہوں گے، جو دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ طیارہ دور فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہوگا، جو اسے جدید فضائی جنگ میں انتہائی مؤثر بنا دیتا ہے۔تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نوعیت کی پیش رفت صرف تکنیکی نہیں بلکہ سفارتی اور سٹریٹجک فیصلوں سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے حتمی معاہدے اور اس کی تفصیلات پر دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات اہم ہوں گے۔اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے پاک چین دفاعی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جائے گا، جو نہ صرف پاکستان کی فضائی طاقت میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Back to top button