سعودیہ اور کویت نے امریکی فوج کیلئے فضائی حدود دوبارہ کھول دیں، سعودیہ کی تردید

سعودی عرب اور کویت نے امریکی فوج کیلئے اپنے اڈے اور فضائی حدوددوبارہ کھول دیں امریکی اخبار کے مطابق سعودی عرب اور کویت نے امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈوں اور فضائی حدود تک دوبارہ رسائی دے دی ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز میں امریکی عسکری کارروائیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی جانب سے پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس مشن کا بنیادی مقصد تجارتی جہازوں کو بحری اور فضائی تحفظ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

امریکی اور سعودی حکام کے مطابق یہ پابندیاں اُس وقت عائد کی گئی تھیں جب امریکا نے آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کیلئے محفوظ بنانے کے اقدامات شروع کیے تھے، تاہم اب صورتحال میں تبدیلی کے بعد خلیجی اتحادیوں نے دوبارہ تعاون بحال کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق پروجیکٹ فریڈم کے تحت بڑی تعداد میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور نگرانی کرنے والے طیارے تعینات کیے جائیں گے تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ خلیجی اتحادیوں کو پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے سے قبل اعتماد میں لیا گیا تھا، جبکہ اس پیش رفت کو امریکا کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب سعودی عرب نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مملکت نے جارحانہ فوجی کارروائیوں کی حمایت کیلئے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے حوالے سے مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ایک سعودی سورس نے العربیہ کو بتایا کہ ریاض نے کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ سورس کے مطابق سعودی عرب خطے میں صورتحال کو پُرسکون کرنے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بعض عناصر مشکوک مقاصد کیلئے مملکت کے مؤقف کو گمراہ کن انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا علاقائی ممالک ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں براہِ راست شامل ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارتی حل اور علاقائی استحکام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے

Back to top button