امریکا کا قشم اور بندر عباس پر حملہ، ایران کا بھرپور جواب دینے کا اعلان

امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم اور بندرگاہ بندر عباس پر حملہ کر دیا۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم اور بندرگاہ بندر عباس پر حملہ کیا ہے۔ امریکی ٹی وی چینلز نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کو جنگ کے دوبارہ آغاز یا جنگ بندی کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب واشنگٹن اپنی تجاویز پر تہران کے جواب کا منتظر ہے۔چینی خبر ایجنسی شنہوا نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حملے میں قشم جزیرے کی ایک لنگرگاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق بندر عباس اور جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعض دھماکے ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھے۔
ادھر ایرانی دارالحکومت تہران میں فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر ڈیفنس سسٹمز کی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد ایرانی سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے خشم پورٹ اور بندر عباس کے اطراف کارروائیاں کیں، جبکہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کو سیزفائر کے خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم ایرانی حکام اس مؤقف کو مسترد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے امریکی قرارداد کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا ہے۔ ایرانی مندوب کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ موجودہ بحران کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیاں ہیں، جبکہ خطے میں امن کے لیے جنگ، دباؤ اور معاشی ناکہ بندی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
