ایران امریکا ڈیل؟ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دو ٹوک جواب

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ایک ہفتے کے اندر طے پا سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران امریکی تجاویز پر غور کرتے ہوئے محتاط سفارتکاری کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں واضح انداز میں کہا کہ اگر ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر نہ آئی تو امریکا نئے حملے کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن بیک وقت سفارتکاری اور دباؤ، دونوں راستے استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور افزودہ یورینیم کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے فوری طور پر کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا بلکہ امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے کی بات کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ یہی پہلو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اسلام آباد ایک قابل اعتماد رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ جنگ بندی معاہدہ اب صرف ایک صفحے تک محدود رہ گیا ہے جس میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہوگی بلکہ عالمی تیل منڈیوں اور معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایران کے اندر سے سخت مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران جوہری معاملے پر کسی دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔ ان کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ تہران کے اندر طاقتور حلقے امریکا پر مکمل اعتماد کیلئے تیار نہیں اور وہ کسی بھی معاہدے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے گفتگو میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ ایران سفارتی حل چاہتا ہے، لیکن مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت ضروری ہے۔ انہوں نے امریکا کے رویے کو “پیٹھ میں چھرا گھونپنے” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران حملوں نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ایران کیلئے اصل مسئلہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ امریکا پر اعتماد کی بحالی بھی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جلد کوئی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان دیانت دار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے گا۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان صرف ایک پیغام رساں نہیں بلکہ عملی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ اس وقت جنگ اور امن کے درمیان کھڑا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے کیلئے ایک نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آبنائے ہرمز، عالمی توانائی سپلائی اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آنے والے چند دن عالمی سیاست کیلئے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
