سوشل میڈیا کے اوباش لَونڈے

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
انٹرنیٹ کی بدولت ’’سٹیزن جرنلسٹ‘‘ نامی مخلوق بھی متعارف ہوچکی ہے۔ اپنے موبائل فونوں پر نصب سوشل میڈیا ایپس کو یہ مخلوق گلیوں کے اوباش لونڈوں کی طرح کسی نہ کسی وجہ سے مشہور ہوئے لوگوں کی تحقیر کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ایسے افراد کو وافر تماش بین بھی مل جاتے ہیں۔ آوازیں کستے غول کو سراہتے تماش بینوں کی تعداد سے ’’اصلی اور خالص صحافی‘‘ ہونے کے دعوے دار گھبرا جاتے ہیں۔اس تناظر میں اپنی ڈھیٹ ہڈی کا البتہ شکر گزار ہوں۔
آوازیں کستے غولِ طفلاں کا اصل مقصد اس موضوع سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے جو زیر بحث لایا گیا ہو۔ مثال کے طورپر جمعرات کی صبح چھپے کالم میں مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر توجہ مبذول رکھی تھی۔ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو بیرون ملک مقیم ایک لونڈے نے نہایت حقارت سے تبصرہ کیا کہ اسلام آباد تک محدود ہوا نصرت جاوید نامی صحافی یہ جانتا ہے کہ سرحد کے دور دراز صوبے مغربی بنگال میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے میں ممتا بینر جی کو کیسے ’’ہرایا‘‘ گیا ہے۔ یہ ’’باخبر صحافی‘‘ مگر پاکستان میں فروری 2024ء کے انتخابات کے بارے میں خاموش رہا۔ مقصد اس فقرے کا محض میری تحقیر نہیں تھا۔ حقیقی مقصد ایک اہم موضوع پر سوچنے اور لکھنے سے گریز کو مجبور کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ذہن میں موجود موضوع پر لکھنے کے بجائے اپنے دفاع میں لفظ ضائع کرنا شروع ہوجاتا۔
اپنے دفاع کے بجائے فروری 2024ء کے انتخابات کے بارے میں سینہ کوبی کرنے والوں کو فقط یاد دلانا ہوگا کہ مذکورہ انتخابات کے دوران کرکٹ کی بدولت کرشمہ ساز ہوئے سیاستدان سے محبت کے دعوے دار قابل ستائش تعداد میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ قاضی عیسیٰ کی سپریم کورٹ نے مذکورہ سیاستدان کی بنائی جماعت کو الیکشن کیشن میں باقاعدہ رجسٹر ہوئی سیاسی جماعت تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس جماعت سے وابستہ امیدواروں کو لہٰذا جانے پہچانے انتخابی نشان-بلے- سے محروم کردیا گیا۔ جو فیصلہ ہوا اس کے اطلاق کے باوجود عاشقانِ عمران خان کی بھاری بھر کم تعداد اپنے حلقوں میں ’’آزاد‘‘ حیثیت سے کھڑے امیدواروں کو ووٹ دینے کے لئے ازخود پولنگ سٹیشنوں تک پہنچ گئی۔ بیلٹ پیپر لے کر اپنی پسند کے امیدوار کا انتخابی نشان تلاش کیا۔ اس پر مہرثبت کی اور خاموشی سے گھر لوٹ آئے۔ سوال اٹھتا ہے کہ واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت میں کامیاب ہونے کے باوجود ’’آزاد‘‘ امیدوار اپنی مقبولیت کو بااثر بنانے میں ناکام کیوں رہے؟ اس سوال کا جواب سوشل میڈیا پر حق وصداقت کے علمبردار ہوئے پاٹے خان فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ بیرون ملک مقیم ہوئے عاشقان بھی ان سے جواب طلب کرنے کی جرأت نہیں دکھاتے۔ سوشل میڈیا پر تاہم تماشہ لگارہتا ہے۔ میں اس تماشے میں شامل ہونے کا متحمل ہو نہیں سکتا۔ چند موضوعات ہیں جن کے بارے میں مسلسل فکر مندی ذاتی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے مفاد کے لئے لازمی ہے۔
گزشتہ دس برسوں سے یہ حقیقت بتدریج عیاں ہورہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقصد محض اپنے اقتدار کو طوالت فراہم کرنا نہیں۔ یہ ایک’’نظریاتی‘‘ جماعت ہے جو بھارت میں ہندوتوا کے کامل نفوذ کے بعد ’’مہا بھارت‘‘ کے احیاء کی خواہاں ہے۔ بی جے پی اپنے ہدف کے حصول میں ناکام ہورہی ہوتی تو اس کے خواب کو دیوانے کی بڑسمجھتے ہوئے نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ حالیہ ’’انتخابی عمل‘‘ کے ذریعے مغربی بنگال پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قبضہ نے مگر چونکنے کو مجبور کردیا ہے۔
میرے خدشات ایک پاکستانی کے تعصبات ٹھہراتے ہوئے نظرانداز کیے جاسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ذاتی طورپر میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد سے مذہبی،لسانی یا ثقافتی شناخت پر مبنی سیاست سے نفرت کرتا رہا ہوں۔ مذکورہ سوچ کے تحت ’’دو قومی نظریہ‘‘ کی ترکیب اور اساس پر بھی اکثر سوال اٹھاتے ہوئے نہایت خلوص سے رجوع کرتا رہا۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کا شکریہ۔ انہوں نے میرے شبہات دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اپنے ذہن کی مودی سرکار کی بدولت صفائی ہوجانے کے باوجود ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے انٹرنیٹ سے شناسا قارئین سے درخواست ہے کہ فرصت ملے تو یوٹیوب کا پھیرالگائیں۔ وہاں کرن تھاپر نامی ذہین ومشہور صحافی نے ایک ہندوماہر سماجیات یوگندر یادیو کا طویل انٹرویو کیا ہے۔ یوگندر انتخابی سیاست پر گہری نگاہ رکھتا ہے۔ گھر بیٹھ کر رائے زنی کا عادی نہیں۔ برسرزمین حقائق کو ذاتی تجربات سے پرکھنے کے بعد ہی رائے بناتا ہے۔
تقریباََ ایک گھنٹے تک پھیلے انٹرویو کے دوران یوگندر یادیو نے نہایت تفصیل سے یہ حقیقت عیاں کی کہ بھارت کا الیکشن کمیشن اب ہندوبالادستی کے خواب کی عملی تفسیر فراہم کرنے والا کلیدی ادارہ بن چکا ہے۔ بھارت میں نسلوں سے آباد مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنانا ہندوتوا کا جنون ہے۔ اس کے حصول کے لئے بھارتی الیکشن کمیشن نے آسام اور مغربی بنگال میں صوبائی اسمبلیوں کی ازسر نو حلقہ بندی کی۔ بے تحاشہ مثالوں کے ذریعے یوگندر یادیو نے واضح کیا کہ نئی حد بندیوں نے مسلمان ووٹوں کی عددی قوت کو بے اثر بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ نئی حد بندیوں کے بعد انتخابی فہرستوں کی بے رحمانہ نظرثانی کے ذریعے مسلمان ووٹوں کی بھاری بھر تعداد انتخابی فہرستوں سے بھی نکال دی گئی۔
آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت نے مسلمان شہریوں کو اپنی حقیقی عددی قوت کے انتخابی عمل میں استعمال سے روکنے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کئے وہ کسی زمانے میں جنوبی افریقہ کے نسل پرست اور آج کے اسرائیل میں صیہونی بالادستی مسلط کرنے والوں نے متعارف کروائے تھے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد غزہ اور اب ایران پر مسلط جنگ کی وجہ سے نام نہاد عالمی برادری مودی سرکار کی جانب سے انتخابی عمل کے دوران اٹھائے متعصب ہتھکنڈوں پر توجہ نہیں دے پائی۔ پاکستان میں بھی ’’ذہن سازوں‘‘ کا ہجوم چند برسوں سے برسات کی کھمبیوں کی طرح نمودار ہوا ہے۔ وہ بھی اپنی ذہانت وفطانت مودی سرکار کے متعصب ہتھکنڈے بے نقاب کرنے کے لئے استعمال نہیں کرپائے۔ آسام اور مغربی بنگال پر ہندوانتہا پسند ماہرانہ نقب لگاکر قابض ہوگئے ہیں۔ اصل خدشہ مجھے یہ لاحق ہے کہ جو بات چل نکلی ہے وہ بنگال میں ختم نہیں ہوگی۔ جو آگ بھڑک اٹھی ہے اس کے شعلے ہماری جانب بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ سوشل میڈیا کے اوباش لونڈے مگر ہمیں ان سے بے خبر ہی رکھیں گے۔
