عالمی قیمتیں مستحکم، مگر پاکستان میں پیٹرول مزید مہنگا کیوں؟

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے عوام کے لیے معاشی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں اگرچہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، تاہم حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں اضافے نے پٹرولیم مصنوعات کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز بڑھانے کا فیصلہ سخت عوامی تنقید کی زدمیں ہے ناقدین کے مطابق حکومت غریب عوام کی سانسیں بند کرنے پر تلی ہوئی ہے، حکمران بتائیں کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی کہاں جائے؟
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے حالیہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا تھا۔ تاہم حکومتی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی اصل وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ پٹرولیم لیوی میں کیا گیا اضافہ ہے
اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول کی اصل عالمی قیمت تقریباً 268 روپے فی لیٹر کے قریب رہی، جس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت عالمی سطح پر معمولی اضافے کے ساتھ تقریباً 342 روپے فی لیٹر تک پہنچی، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اس کی قیمت میں زیادہ اضافہ کر دیا گیا۔حکومتی دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹرول پر پٹرولیم لیوی کو 103 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمت میں تقریباً 15 روپے اضافہ ہوا۔ اسی طرح ڈیزل پر لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی، جس سے ڈیزل بھی مہنگا ہو گیا۔
توانائی ماہرین کے مطابق حکومت یہ اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کر رہی ہے تاکہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سبسڈی میں کمی اور مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت بار بار پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جبکہ دیگر شعبوں سے ٹیکس وصولی کے مشکل فیصلے ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے۔معاشی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں مہنگائی مزید بڑھے گی اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ کم خرچ کریں گے تو معیشت کی رفتار بھی سست ہو جائے گی، جس سے مجموعی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ماہر معیشت فرحان محمود کا کہنا ہے کہ حکومت یہ اضافہ دراصل اس مالی خلا کو پر کرنے کے لیے کر رہی ہے جو ماضی میں سبسڈی دینے کے باعث پیدا ہوا تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ وقتی طور پر ریونیو بڑھ جاتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ صارفین نے مہنگائی کے اس نئے مرحلے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ بڑھتی قیمتیں اب صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا بوجھ بن چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، روزگار کی کمی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اور اب ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔دیگر صارفین نے بھی طنزیہ اور تنقیدی انداز میں حکومت کے فیصلے پر ردعمل دیا اور کہا کہ ہر بار بوجھ صرف عوام پر منتقل کیا جاتا ہے جبکہ ریلیف کم ہی نظر آتا ہے۔
جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ،فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان
خالد حسین ملک نے اپنے تبصرے میں کہا کہ جب قیمتیں کم کرنی ہوتی ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف خود اعلان کرتے ہیں، مگر اضافے کے وقت صرف نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل عوامی مشکلات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہےضیغم نقوی نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے اضافے کو “جنگی صورتحال” جیسے بہانوں سے جواز دے رہی ہے اور اصل مسائل یعنی ایف بی آر کی کارکردگی اور انتظامی نااہلی پر پردہ ڈالا جا رہا ہے، جس کا بوجھ پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔صحافی انصار عباسی نے بھی اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ہے اور یہ وزیراعظم کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم سے کم سطح پر لایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
