پاکستانی جنگی طیاروں کی تباہی کے بھارتی دعوے تنقید کی زد میں کیوں؟

 

 

 

بھارت کے اعلیٰ عسکری حلقوں میں پاکستان کے ساتھ مئی 2025 کی فضائی جھڑپوں سے متعلق متضاد دعوؤں نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک جانب بھارتی فضائیہ کے ایک سینیئر افسر نے پاکستان کے 5 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کیا، تو دوسری جانب ایک اور بھارتی افسر نے یہی تعداد 13 بتا دی، تاہم دونوں دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے مختلف مواقع پر اس مختصر پاک بھارت جنگ کی تفصیلات اور نقصانات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے سنگاپور میں ایک انٹرویو کے دوران طیاروں کے گرنے کا اعتراف تو کیا مگر تعداد کو غیر اہم قرار دیا بعد ازاں بھارتی ایئر چیف امرپریت سنگھ نے ایک تقریب میں پاکستان کے 5 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تازہ ترین بیان میں انڈین ایئر مارشل اے کے بھارتی نے یہ تعداد بڑھا کر 13 تک پہنچا دی۔ بھارت کے ان متضاد بیانات کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی فضائی جنگ میں جنگی طیارہ مار گرائے جانے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

 

دفاعی ماہرین کے مطابق فضائی جنگ میں جب کسی جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کا دعویٰ سامنے آتا ہے تو یہ معاملہ صرف ایک عسکری بیان یا پریس کانفرنس تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی سچائی جانچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس، ریڈار ڈیٹا اور زمینی شواہد کو ایک ساتھ پرکھا جاتا ہے۔ آج کے دور میں فضائی جنگ محض میزائلوں اور طیاروں کی نہیں بلکہ معلومات، سیٹلائٹ نگرانی اور ڈیجیٹل شواہد کی بھی جنگ بن چکی ہے، جہاں کسی بھی دعوے کی تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت تسلیم نہیں کیا جاتا۔

 

ماہرین کے بقول فضائی جنگ میں جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کی تصدیق ایک انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی عمل ہے جس میں مختلف ذرائع سے حاصل شدہ شواہد کو یکجا کر کے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جھڑپوں سے متعلق متضاد دعوؤں کے بعد یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کسی بھی طیارے کے گرنے کی اصل تصدیق کیسے کی جاتی ہے؟ دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی جنگی طیارے کی تباہی کا سب سے مضبوط اور بنیادی ثبوت طیارے کا ملبہ ہوتا ہے۔ اگر کسی مقام پر طیارے کے انجن، پرزے یا فیوسلیج کے ٹکڑے مل جائیں تو ماہرین ان پر موجود سیریل نمبرز اور مینوفیکچرنگ کوڈز کی مدد سے فوراً شناخت کر لیتے ہیں کہ یہ کس ماڈل اور کس ملک کے طیارے کا حصہ ہے۔ بعض اوقات دھماکے یا میزائل کے اثرات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار ہوا یا دشمن کے حملے میں تباہ ہوا۔

 

دوسرا اہم عنصر پائلٹ سے متعلق معلومات ہیں۔ اگر پائلٹ ایجیکٹ کر کے زندہ بچ جائے، گرفتار ہو جائے یا اس کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے تو یہ طیارے کے گرنے کا مضبوط ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر بھی اس دعوے کو تقویت دیتی ہیں۔جدید جنگی نظام میں ریڈار اور ایواکس طیارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سسٹمز فضائی نقل و حرکت کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کرتے ہیں۔ اگر کوئی طیارہ اچانک ریڈار سے غائب ہو جائے یا میزائل حملے کے بعد اس کا سگنل ختم ہو جائے تو اسے ممکنہ طور پر تباہ شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم حتمی نتیجے کے لیے مزید شواہد ضروری ہوتے ہیں۔

ماہرین کے بقول حالیہ برسوں میں اوپن سورس انٹیلیجنس (OSINT) نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمرشل سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون فوٹیج اور مقامی ویڈیوز کو ملا کر ماہرین کریش سائٹ کی تصدیق کرتے ہیں۔ ٹیرین، روشنی، سائے اور میٹا ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ کوئی ویڈیو حقیقی ہے یا جعلی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ طیارہ بنانے والی کمپنیاں بھی بالواسطہ طور پر اپنے جہاز کی تباہی کا اندازہ لگا لیتی ہیں۔ جدید جنگی طیارے مسلسل ڈیٹا ریکارڈ کرتے رہتے ہیں جس میں انجن کی کارکردگی، مشن لاگز اور تکنیکی خرابیوں کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا اچانک رک جائے تو کمپنی کو شبہ ہو جاتا ہے کہ طیارہ تباہ ہو چکا ہے۔

 

سیریل نمبرز بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر طیارے کے پرزے پر مخصوص کوڈ ہوتا ہے جس کی مدد سے اس کی شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اتحادی انٹیلیجنس اور سیٹلائٹ ڈیٹا بھی اس بات کی تصدیق میں مدد دیتا ہے کہ آیا کوئی طیارہ واقعی تباہ ہوا یا نہیں۔

 

ماہرین کے مطابق فضائی جنگ میں کیے جانے والے فوری دعوے اکثر سیاسی یا نفسیاتی مقاصد کے لیے بھی کیے جاتے ہیں، اس لیے عالمی سطح پر "کنفرمڈ کِل” صرف اسی وقت تسلیم کیا جاتا ہے جب ملبہ، ریڈار ڈیٹا، ویڈیو شواہد اور انٹیلیجنس رپورٹس ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔

عالمی قیمتیں مستحکم، مگر پاکستان میں پیٹرول مزید مہنگا کیوں؟

اسی تناظر میں حالیہ پاک بھارت فضائی کشیدگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ایک جانب طیارے گرائے جانے کے دعوے کیے گئے جبکہ دوسری جانب ان کی مکمل اور آزاد تصدیق اب بھی دفاعی عو عسکری حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

 

Back to top button