کیا حکومت 27 ویں ترمیم سے فوجی عدالتیں قائم کرنے والی ہے؟

اتوار کے روز وزیر اعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات کے بعد ملکی سیاسی حلقوں میں افواہوں کا بازار گرم ہے اور دعوے کئے جا رہے کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مابین مولانا کی مشاورت اور تائید سے 27 آئینی ترمیم لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ 27 آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالتوں کے قیام ملٹری کورٹس سمیت 26ویں ترمیم میں باقی رہ جانے والی شقوں کی منظوری لی جائے گی۔
روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اہم عدالتی اصلاحات کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور نئے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے حلف اٹھا کر اپنا منصب سنبھالنے لیا ہے اب حکمران اتحاد نے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے باگ دوڑ شروع کر دی ہے۔
اس حوالے سے مشاورتی ملاقاتوں اور رابطوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
دوران ملاقات دونوں رہنماؤں میں 27 ویں آئینی ترمیم پر جے یو آئی اور ایم کیو ایم کو ’’آن بورڈ‘‘ لینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا دعوی ہے 26ویں آئینی ترمیم کے برعکس27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے سرگرمیاں غیر محسوس انداز میں آگے بڑھیں گی، سیاسی ہیجان دیکھنے میں نہیں آئیگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف لیگی رہنماؤں کی جانب سے فوری 27ویں آئینی ترمیم لانے سے انکار کیا جا رہا ہے تاہم چھٹی کے روز بلاول بھٹو کا وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کیلئے خصوصی طور پر لاہور آنا پھر ان کے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ شہباز شریف سے مشاورت، جبکہ دوسری طرف بلخصوص قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی دوران ملاقات موجودگی اس قیاس کو یقینی بناتی ہے کہ نہ صرف یہ ملاقات بلکہ اس کا ایجنڈا بھی پہلے سے طے تھا اور وزیراعظم شہباز شریف اس یقینی ملاقات کیلئے لاہور میں اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن میں موجود تھے۔
اگرچہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم بات ضرور ہوئی لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اتفاق رائے ہوا۔
تاہم مصدقہ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد 27 ویں ترمیم کیلئے حکمت عملی وضع کرنے اور اس مقصد کیلئے پارلیمانی ایوان میں دوبارہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے پر مشاورت ہوئی اور اسی موضوع اور حکمت عملی کے باعث وزیر قانون اور قومی اسمبلی کے سپیکر اس مشاورت میں شامل تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم کے راہنماؤں سمیت پیپلز پارٹی کے مرکزی لیڈر جن میں گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی بھی شامل ہیں یہ واضح کر چکے ہیں کہ 27 ویں ترمیم آنی ضرور ہے لیکن کب آئے گی اس کا علم نہیں۔
جبکہ ایم کیو ایم کے راہنما فاروق ستار کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ہمارا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے، جس کی تصدیق وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ بھی کرچکے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں سے وعدہ کیا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم لائی جائے گی۔
جس میں ملٹری کورٹس بنانے کی بھی بات ہوگی تاہم ان کا یہ بھی موقف تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فاٹا جیسے مخصوص علاقوں میں ہی ملٹری کورٹس قائم کی جائیں۔
ذرائع کے مطابق امکانی طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ماڈل ٹاؤن میں وفود کی سطح پر مشاورت اور حکمت عملی وضع کرنے کے بعد اس پر پیشرفت کا آغاز جلد ہو جائے گا۔تاہم فی الوقت اس کی تشہیر اور سرگرمیاں غیر محسوس انداز میں آگے بڑھیں گی اور سیاسی ہیجان دیکھنے میں نہیں آئے گا جیسا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے موقعہ پر ایک ماہ تک جاری رہا تھا۔ اور نہ ہی 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کے حوالے سے کسی عجلت کا مظاہرہ ہوگا۔
تاہم یہاں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اہم حکومتی، سیاسی اور دیگر اعلیٰ سطحی شخصیات کی آماجگاہ بنے گی، کیا پھر قائدین کی ملاقاتوں، رابطوں اور پیغام رسانی کیلئے شب و روز کی سرگرمیوں کا وہی سلسلہ جاری رہے گا جو 26 ویں آئینی ترمیم کے موقعہ پر تقریباً ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہا تھا؟
تاہم 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے لیکر اب تک جو واقعات اور بیانات سامنے آئے ہیں ان کے پیش نظر بادی النظر میں تو ایسا ماحول نظر نہیں آتا کیونکہ بلاول بھٹو ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹرویو میں غیر مبہم الفاظ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے ہمارے پاس مطلوبہ نمبر پورے تھے اور 26 ویں ترمیم مولانا کی حمایت کے بغیر بھی منظور ہوسکتی تھی۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کیلئے بلاول بھٹو کا یہ بیان خاصا بڑا اور سنجیدہ دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان بھی گزشتہ چند ایام سے اجتماعات سے خطاب میں اپنا یہ موقف دہرا رہے ہیں کہ اگر 27 ویں ترمیم پیش کی گئی تو جے یو آئی اس کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔
دو روز قبل ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں کچھ چوں چوں سن رہا ہوں کہ کوئی 27 ویں آئینی ترمیم آ رہی ہے اور جو اس 26 ویں آئینی ترمیم) میں نہیں ہو سکا وہ کیا جائے گا، تمہارا باپ بھی نہیں کر سکتا، کر کے دکھاؤ ذرا اور پھر اپنا حشر دیکھنا۔ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ آپ کوئی ترمیم لائیں گے اور ہم عورتوں کی چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھے رہیں گے۔‘
تاہم اب دیکھنا ہے کہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی 27ویں آئینی ترمیم پر مولانا کو رام کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔
