کیا واقعی حکومت جلد منی بجٹ لانے والی ہے؟

 

 

 

مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر ٹیکس بم گرانے کیلئے حکومت نے منی بجٹ لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی معاشی حالات کے تناظر میں پیپلز پارٹی کی جانب سے غیر مشروط حمایت ملنے کے بعد حکومت نے آئندہ چند روز میں منی بجٹ لانے کیلئے مشاورتی عمل تیز کر دیا ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔تاہم ابھی تک منی بجٹ لانے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر صلاح مشورے جاری ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد اس بارے میں واضح اعلان کرے گی، جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آئے گا۔

حکومت کی جانب سے اضافی مالیاتی اقدامات کی ممکنہ تیاری نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کی غیر مشروط حمایت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ دنوں چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ موجودہ “جنگی نوعیت” کے حالات میں سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر ملک کے دفاع یا وسیع تر مفاد میں حکومت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ بلاول بھٹو کے اس مؤقف کے بعد سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس ممکنہ اقدام پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔

رانا ثنا اللہ کی جگہ حمزہ شہباز پنجاب نون لیگ کے صدر

ذرائع کے مطابق حکومت ملک کی مالیاتی ضروریات، آئی ایم ایف کی شرائط اور دفاعی اخراجات میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایسے میں منی بجٹ کو مالی خسارہ پورا کرنے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حکومتی حمایت اس بات کی غماز ہے کہ اندر کھاتے کوئی نہ کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔ تاہم معاشی ماہرین منی بجٹ کے حوالے سے کسی پیشرفت کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں فوری طور پر منی بجٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ویسے بھی اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری پر مرکوز ہے ۔ ملکی معیشت اس وقت معمول کے مطابق چل رہی ہے اور ایسا کوئی ہنگامی بحران نہیں جس کے باعث فوری منی بجٹ ناگزیر ہو۔ سینئر صحافی شعیب نظامی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام میں محض ڈھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں اور جون کے اوائل میں نئے بجٹ کی پیشکش متوقع ہے، لہٰذا اس مختصر مدت میں منی بجٹ لانے کا امکان محدود دکھائی دیتا ہے لیکن اگر حکومت منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے ممکنہ اثرات خاصے وسیع ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ منی بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ یعنی پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے بڑھتی مہنگائی کے شکار عوام کی اذیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

Back to top button