کیا بسنت کے تہوار اور سٹیج ڈانس پر حکومتی پابندی کے فیصلے جائز ہیں؟

معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ ہم سے دھاتی ڈور بنانے والے نہیں پکڑے گئے، ہوائی فائرنگ کرنے والے قابو نہیں آئے، اِس لیے ہم نے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اُس تہوار پر ہی پابندی لگا دی جو صدیوں سے لاہور میں منایا جا رہا تھا اور جسے دیکھنے کیلئے پوری دنیا سے سیاح لاہور آتے تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سپین میں بُل فائٹنگ یا ہندوستان میں کمبھ کے میلے پر پابندی لگا دی جائے۔ انکا کہنا یے کہ ریاست کا یہ ردعمل احمقانہ ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں یا یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ ایک سٹیج ڈرامے میں امان اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اگر 9/11 کا واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو حکومت نے کیا کرنا تھا۔ اپنے وقت کے بے مثال کامیڈین نے جواب دیا ’’حکومت نے اور تو کچھ نہیں کرنا تھا، بس ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی!‘‘ امان اللہ نے اِس ایک جملے میں ہماری گورننس کا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔
یاسر کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ غیر ملکی یونیورسٹیوں سے مینجمنٹ سیکھ کر آتے ہیں اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل صرف پابندی ہی کیوں ہوتا ہے؟ دھُند بڑھ جائے تو موٹر وے بند کر دو اور کوئی دھاتی ڈور استعمال کرے تو بسنت پر پابندی لگا دو۔ کلر کہار پر حادثات بڑھے تو صاحبانِ عقل و دانش نے یہ نسخہ نکالا کہ ہر بس کو کلر کہار کی پہاڑیوں سے پہلے اور بعد میں روکا جائے، مسافروں کی خواری میں بھی اضافہ ہوا اور ساتھ ہی موٹر وے کا سفر بھی پون گھنٹہ طویل ہو گیا، گویا جس مقصد کیلئے موٹر وے بنی تھی وہی فوت ہو گیا۔ دھُند میں، جو گاڑیاں موٹر وے پر رواں دواں ہوتی ہیں انہیں زبردستی مضافات کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے جو کہ مزید خطرناک بات ہے کیونکہ موٹر وے کے آس پاس گاؤں ہیں جہاں سے کسی راستے کا کچھ پتا نہیں چلتا۔
یاسر کے بقول بندہ پوچھے کہ دھُند کیا صرف موٹر وے پر ہی ہوتی ہے اور ارد گرد مطلع صاف ہوتا ہے؟ اسی طرح ہم نے بسنت کا بھی ستیاناس کر دیا ہے۔ صدیوں پرانے اِس تہوار پر اب باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، پتنگ اُڑانا اب پنجاب میں جُرم ہے، بسنت منانے پر سات سال قید اور پچاس لاکھ جُرمانہ ہو گا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مزید سوچ بچار یہ بھی جاری ہے کہ پنجاب میں اُن رقاصاؤں اور اداکاراؤں پر تاحیات پابندی لگا دی جائے جو اسٹیج پر فحش ڈانس کرتی ہیں۔ اِس اِقدام کی تو حمایت کی جانی چاہیے، ہاں، مگر نہیں۔ ریاست اُن کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی جن کی وجہ سے یہ عورتیں پانچ سو مردوں کے ہجوم میں خود کو برہنہ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں البتہ اِن عورتوں پر قیامت تک پابندی لگانا چونکہ آسان کام ہے اِس لیے یہ کام ریاست کر گزرے گی، یعنی برق گرے گی تو بیچاری ڈانسرز پر!
یاسر ہیرزادہ کہتے ہیں کہ موٹروے ہو، بسنت ہو یا سٹیج ڈانسرز کا معاملہ، سوال یہ ہے کہ اِن مسائل پر ریاست کے ردِّعمل کی نوعیت کیا ہے؟ اِس بات سے کسی کو اِنکار نہیں کہ موٹر وے پر دھُند خطرناک ہوتی ہے، بسنت میں دھاتی ڈور کے استعمال سے جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور پنجاب کے اسٹیج ڈرامے اب بے حد فحش ہو چکے ہیں، مگر اِن مسائل سے نمٹنے کا جو طریقہ ہمارے بزرجمہروں نے تلاش کیا ہے، اُس پر امان اللہ کی جُگت ہی مُنطبق ہوتی ہے۔ ریاست کا رَدّعمل دو طرح سے غلط ہے۔
ریاستی اہلکاروں کو اِن مسائل کا جو حل پیش کرنا چاہیے وہ اصل میں طویل مدتی ہے اور وقت چونکہ کسی کے پاس نہیں اِس لیے کوئی بھی یہ حل سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ کلرکہار پر حادثے اِس لیے نہیں ہوتے کہ وہاں بس چلانا مشکل کام ہے، وہاں حادثات تیز رفتاری اور لاپروائی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اور یہ لاپروائی اِس لیے ہے کہ لوگوں کو علم ہے کہ اگر ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ عائد ہو بھی گیا تو بھی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہے گی، جبکہ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں لائسنس کی منسوخی سے زندگی عملاً معطل ہو جاتی ہے۔ ہم ٹریفک قانون پر تو عمل نہ کروا سکے، آسان حل یہ نکالا کہ کلرکہار کے آس پاس مسافر بسیں روک کر لوگوں کو ذلیل کریں، یہ کام ہمیں خوب آتا ہے۔
یاسر کہتے ہیں کہ اب آ جائیں بسنت پر۔ ہم سے دھاتی ڈور بنانے والے نہیں پکڑے گئے، ہوائی فائرنگ کرنے والے قابو نہیں آئے، اِس لیے ہم نے اُس تہوار پر پابندی لگا دی جو صدیوں سے لاہور میں منایا جاتا تھا۔ پنجاب کے تھیٹروں میں فحش ناچ ہوتا ہے اِس بات میں کوئی شک نہیں، لیکن دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور آزاد معاشروں میں اُن کے ذوق کی تسکین کا سامان بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ لوگ کلب بھی جاتے ہیں اور تھیٹر میں شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھنے بھی، جس کا جو مَن ہوتا ہے وہ وہاں چلا جاتا ہے۔ لیکن ہم میں سے یہ حل پیش کرنے کی ہمت کسی میں نہیں لہٰذا آسان حل وہی کہ پابندی لگا دو۔ اِس پابندی کا جواز ضرور بنتا ہے مگر اُس صورت میں اگر اِسی نوعیت کی پابندی اُس طبقے پر بھی لگائی جائے جو روزانہ مِنبر سے کفر و اِلحاد کے فتوے جاری کرتا ہے۔
یاسر پیرزادہ کے بقول سٹیج پر ناچنے والی عورتیں معاشرے کے سب سے پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، شوگر مِل اور ٹیکسٹائل مِل مالکان کی طرح اِن بیچاریوں کے پاس نہ لابنگ کرنے کے پیسے ہیں اور نہ وسائل، جس دن اِن پر پابندی عائد ہو گی اُس دن یہ گھر بیٹھ جائیں گی اور اُن چار پیسوں کی آمدن سے بھی محروم ہو جائیں گی جو انہیں تھیٹر سے آتے ہیں۔ ماں جیسی ریاست نے اِن عورتوں کو نہ پڑھایا لکھایا اور نہ انہیں بااِختیار بنایا مگر اِن پر پابندی لگانے میں شیر ہے۔ البتہ وہاں ریاست کی گھِگھی بند جاتی ہے جہاں کوئی شخص، گروہ یا جماعت مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ریاست کو بلیک میل کرے اور پورے معاشرے کو ننگا کر دے، وہاں کسی کی جرات نہیں ہو گی کہ اُن پر پابندی تو دور کی بات مذمتی بیان ہی جاری کر دے۔
ہمارا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو دنیا نے اِس سے پہلے حل نہ کیا ہو۔ دنیا نے موٹرویز ہم سے پہلے بنائیں، دنیا میں صدیوں پرانے تہوار بھی منائے جاتے ہیں اور دنیا کے تھیٹروں میں اِس بھی زیادہ فحش ناچ ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ہوتا ہے، مگر دنیا پابندی نہیں لگاتی۔ ہمیں جہاں کچھ سمجھ نہیں آتی وہاں پابندی کا کلہاڑا چلا دیتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو اِس ملک میں اگر کسی بات پر پابندی ہونی چاہیے تو وہ دو سے زائد بچے پیدا کرنے پر ہونی چاہیے، مگر کسی مائی کے لعل میں جرات نہیں کہ یہ پابندی لگائے۔ لہٰذا جب تک ہم وہ جرات نہ حاصل کر لیں تب تک سٹیج ڈانسرز پر پابندی ہی ٹھیک ہے!
