کیا ’فیک نیوز‘ پھیلانے پر 3 سال قید کی سزا کا قانون زیادتی ہے؟

قومی اسمبلی کی جانب سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے اور اسے آزادی اظہار پر قدغن عائد کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بل کے مطابق جو شخص آن لائن ’فیک نیوز‘ پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

اِس حکومتی بِل پر ناصرف صحافتی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں بلکہ ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیمیں بھی سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب اگلے روز قومی اسمبلی میں یہ بل پیش ہوا تو اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا جبکہ پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ صحافیوں کے پاس گئے اور دعویٰ کیا کہ ’یہ بِل پروفیشنل صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف ہے۔‘ حزب مخالف کی جماعتوں اور صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس بِل کی منظوری کی سخت مذمت کی ہے جبکہ دیگر صحافتی تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا واحد مقصد جھوٹی خبروں کا قلع قمع کرنا ہے نہ کہ آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن۔ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس بِل کو ’دی پریوینشن آف الیکٹرنک کرائمز (ترمیمی) بل 2025‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے ایک نئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی منسوخی اور معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔ اس بِل کے ذریعے پیکا ایکٹ میں ایک نئی شق، سیکشن 26 (اے) کو شامل کیا گیا ہے جو آن لائن فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سزا سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر ایسی فیک نیوز پھیلاتا ہے جو معاشرے میں ڈر، گھبراہٹ یا خرابی کا باعث بنے، اس شخص کو تین سال قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

اسکے علاوہ اس بِل میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی قائم کرے گی جس کے سربراہ کا تعیناتی تین سال کے عرصے کے لیے ہو گی۔ نئی تحقیقاتی ایجنسی کے قیام کے ساتھ ہی ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ تحلیل کر دیا جائے گا۔

اس ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی جس کا چیئرمین ہائیکورٹ کا سابق جج ہو گا۔ ترمیمی بل کے مطابق ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں 60 دنوں میں چیلنج کیا جا سکے گا

سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں سے متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں ’سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی‘ کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔ اس اتھارٹی میں کل نو ممبران ہوں گے جبکہ سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا بر بنائے عہدہ اس اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔ اس مجوزہ اتھارٹی سے متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے چیئرمین اور پانچ اراکین کی تعیناتی پانچ سال کی مدت کے لیے کی جائے گی اور اتھارٹی کے چیئرمین سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر قانونی مواد کو فوری بلاک کرنے کی ہدایت جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔

اس بِل کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اتھارٹی سے رجسٹر کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عارضی یا مستقل طور پر بھی بند کیا جا سکے گا۔ یہ اتھارٹی ’نظریہ پاکستان کے برخلاف اور شہریوں کو قانون توڑنے پر آمادہ کرنے والے مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی۔‘ اس ترمیمی ایکٹ کے مطابق اتھارٹی پاکستان کی مسلح افواج، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے حذف کیے گئے مواد کو سوشل میڈیا پر نہیں اپلوڈ کیا جا سکے گا۔ ترمیمی بل کے مطابق پابندی کا شکار اداروں یا شخصیات کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کیے جا سکیں گے۔

اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے موقف اپنایا ہے کہ حکومت لوگوں سے اظہارِ رائے کی آزادی چھیننا چاہتی ہے۔ پی ایف یو جے کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس بل کا مقصد سوشل میڈیا پر لگام ڈالنا ہے کیونکہ اب وہی پلیٹ فارم بچے تھے جن پر لوگ حکومت کے کرتوت سامنے لاتے تھے۔ ’پہلے حکومت نے فائر وال لگائی، اس سے کام نہیں بنا تو اب یہ بِل لے کر آئے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا آپ کو کسی کا اکاؤنٹ یا اس سے کی جانے والی بات اچھی نہیں لگتی تو اس کو اٹھا لیں۔‘

تحریک انصاف کی جانب سے تو بل بل کی مخالفت کی ہی جا رہی یے لیکن حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے بھی اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہتر ہوتا کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث کروا لی جاتی۔’ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس حق میں نہیں کہ لوگوں کی آواز کو دبایا جائے۔‘ پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ ’ملک میں اس بل سے زیادہ اور اہم مسائل موجود ہیں جن پر توجہ دی جانی چاہیے۔

پاور شیئرنگ،صدر زرداری نے معاملات اپنے ہاتھ میں کیوں لئے؟

تاہم حکومت اس بل کا دفاع کر رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد ہونے سے ملک میں فیک نیوز کا خاتمہ ہو گا۔ مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ ’حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ ہر شخص کو رائے دینے کی آزادی ہے اور وہ اس کا اظہار اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بھی کر سکتا ہے۔ تاہم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ریاست مخالف پراپیگنڈے کی اجازت نہیں ہوتی اور جہاں ریاست کے تحفظ کی بات آتی ہے تو وہاں ایسے عناصر کو ضرور روکا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’معاشرے میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ہر کسی کی پگڑی اچھالی جا رہی ہے اور یہ چیز کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔‘

Back to top button