پاور شیئرنگ،صدر زرداری نے معاملات اپنے ہاتھ میں کیوں لئے؟

صدر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مابین اختلات کی بڑھتی خلیج کو کم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پیپلزپارٹی رہنماؤں کے وفاقی اور پنجاب حکومت بارے تحفظات اور اعتراضات کے بعد صدر زرداری نے تمام اختلافی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور حکومت سے مذاکرات کیلئے قائم تمام کمیٹیاں تحلیل کرتے ہوئے خود وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں ختم کر کے صدر زرداری کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے سے پتا چلتا ہے کہ دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین سب اچھا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں ن لیگ کی حکومت کے حوالے سے تحفظات حکومت کیلئے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم اجلاس کے حوالہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے ساتھ مفاہمتی کمیٹیاں تحلیل کر دی ہیں اور صدرآصف علی زرداری کو پاور شیئرنگ کے حوالہ سے فیصلہ سازی کا حتمی اختیار دے دیا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات جلد حل۔ہو جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے اجلاس میں اراکین کی اکثریت نے ن لیگ کی حکومتی پالیسیوں بارےتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کو حکومت چھوڑنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ن لیگ سے اتحاد پارٹی کی ساکھ کو تباہ کر رہا ہے ن لیگ پیپلز پارٹی کو اہمیت دینے کو تیار نہیں تو پھر حکومت میں رہنے کا کیا جواز ہے ۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ن سے اختلافات بڑی وجہ پنجاب ہے جہاں پیپلز پارٹی کو سپیس نہیں مل پا رہی ۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں خود کو بے بس سمجھ رہی ہے اور وہ پنجاب کے سیاسی محاذ پر اپوزیشن میں بیٹھنے کی پوزیشن میں بھی نہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ اس کا اصل مسئلہ پنجاب کی سطح پر جنوبی پنجاب کے تین اضلاع میں اپنے من پسند انتظامی افسران کو لگانا ہے جو مطالبہ پنجاب حکومت تسلیم نہیں کر رہی۔ مبصرین کے مطابق پنجاب حکومت کے حوالے سے تحفظات کے اثرات خود مرکز میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور اب پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے حوالہ سے یہ خبریں آئیں ہیں کہ وہ ن لیگ کی حکومت سے کنارہ کشی کا سوچ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق جہاں تک پنجاب حکومت بارے پیپلز پارٹی کے تحفظات کا سوال ہے تو یہ مسئلہ صرف پیپلز پارٹی کا نہیں اور ان کے اختلافات یا تحفظات کو بھی اس لئے زیادہ اہمیت نہیں مل پا رہی کہ پنجاب کے سیاسی محاذ پر پیپلز پارٹی اگر ساتھ نہ بھی دے یا چھوڑ بھی دے تو مسلم لیگ ن کی حکومت کو کوئی خطرہ نظر نہیں آتا اور یہی طاقت خود اراکین اسمبلی کیلئے بھی پریشان کن نظر آتی ہے کیونکہ پی پی کی پارلیمانی قوت ایک ڈیڑھ درجن سے زائد نہیں تاہم اگر پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ انہیں کچھ اضلاع کا نظم و نسق سونپ دیا جائے اور کچھ اداروں میں پیپلز پارٹی کے بندے کھپائے جائیں تو ان کے تحفظات دور ہو سکتے ہیں تاہم اگر پیپلزپارٹی کی جانب سے اس سے زیادہ مانگ کی گئی تو فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کی بڑی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ پنجاب حکومت کو کھڑے رہنے اور چلنے میں پیپلز پارٹی کا سہارا مطلوب نہیں مگر پیپلز پارٹی ہر صورت پنجاب میں اپنے قدم جمانے کیلئے کوشاں ہے جس کے امکانات ابھی دکھائی نہیں دے رہے۔
مبصرین کے مطابق سال 2022 میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اقتدار کی سیج پر ایک ساتھ ہیں تاہم دونوں جماعتوں میں گاہے بگاہے نوک جھونک کے سیشن بھی چلتے رہتے ہیں۔ کبھی پیپلز پارٹی کی جانب سے نون لیگ کی کارکردگی پر تنقید کے نشتر برسائے جاتے ہیں تو کبھی وعدہ خلافیوں پر لیگی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔ کبھی حکومتی فیصلوں پر کھل کر تحفظات کااظہار کیا جاتا ہے تو کبھی پیپلز پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اتحاد سے نکل جانے کی مشورے نما دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے مابین اختلافات اتنی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی اب اتحاد سے نکل جانے کی دھمکیاں دینے پر مجبور ہو گئی ہے؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سامنے آنے والے تحفظات اور اعتراضات کے بعد پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی مجبوری کی شادی مزید کتنا عرصہ چلے گی؟
مبصرین کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 26 ویں آئینی ترمیم کے لیے فرنٹ فٹ پر جاکر اپنا کردار ادا کیا اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کیے اور پھر اچانک سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے مگر اب دوبارہ سیاسی اکھاڑے میں واپسی پر جہاں بلاول بھٹو پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کے نشتر برساتے دکھائی دیتے ہیں وہیں انھوں نے ن لیگ کو بھی اپنے نشانے پر لے رکھا ہے۔
پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے مابین اختلافات بارے تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی میں ہلچل کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے کیوں کہ حکومتوں کو بنے ہوئے اب ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے اور سیاسی استحکام کے علاوہ معاشی استحکام بھی پیدا ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ اس کی کوئی اور توجیح نہیں ہو سکتی کہ پیپلز پارٹی اب زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے کیوں کہ موجودہ سیٹ اپ میں دور دور تک پیپلز پارٹی کا فی الوقت حکومت میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’پیپلز پارٹی کا اصل مسئلہ پنجاب میں اپنے سیاسی کردار کی بحالی ہے جو ممکن نہیں ہو پا رہی۔ حکومت سے اُن کا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔ گورنر ہاوس میں ان کی حالیہ میٹنگ میں ان کے درمیان معاملات طے تھے۔ اور ان مطالبات کی روشنی میں ہی احکامات جاری ہوئے۔ بلاول صاحب پارٹی کے لیڈر ہیں وہ اپنے بیانات سے حکومت کو دفاعی محاذ پر رکھنا چاہتے ہیں۔‘
علی امین گنڈاپور کو پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صدارت سے ہٹا دیا گیا
تاہم بعض دیگر مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مجبوری کی شادی ہے اور کچھ بھی ہو جائے موجودہ سیٹ اَپ میں یہ ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں اور اس حقیقت کا ادراک سب کو ہے۔ پیپلز پارٹی کی پوزیشن چوں کہ چھوٹی ہے اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے اپنا پریشر بنائے رکھنا چاہتی ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی اور توجیح نہیں ہو سکتی۔
