کیا بلوچستان میں فوجی آپریشن چینی حکومت کے دباؤ کا نتیجہ ہے؟

وائس آف امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں کالعدم علیحدگی پسند بلوچ قوم پرست تنظیموں کی دہشت گردی روکنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان چینی حکومت کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔

حالیہ ایپکس کمیٹی کے اعلامیے میں بی ایل اے اور اس کے ذیلی ونگ مجید بریگیڈ، ڈاکٹر اللہ نزر کی بی ایل ایف براس کو نشانہ بنانے کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت انہیں بلوچستان کی شورش میں اہم عوامل تصور کرتی ہے۔ حکومت نے بلوچستان کی شورش میں مبینہ ملوث ہونے کی بنا پر بی ایل اے اور بی ایل ایف سمیت ایک درجن سے زائد تنظیموں کو پہلے ہی کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ امتیاز بلوچ کے مطابق بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ٹی ٹی پی اور دیگر مذہبی شدت پسند جماعتیں بھی فعال ہیں جو سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے مطابق سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان دراصل چین کی حکومت کو پیغام پہنچانا تھا کہ پاکستان میں چینی مفادات پر حملہ کرنے والے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف کارروائی شروع ہو رہی ہے۔

چین پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں  پاک چین سی پیک کے مختلف منصوبوں کے ذریعے سڑکیں، ڈیم، پائپ لائن اور بندرگاہ پر کام جاری ہے۔

سی پیک چین کے عالمی سطح پر جاری ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کو زمینی راستے سے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنا ہے جس سے چین کو بحیرۂ عرب تک رسائی حاصل ہونے میں آسانی ہو گی۔ پاکستان میں چینی باشندوں کو نشانہ بنانے والی بی ایل اے اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں چین کو ایک نو آبادیاتی طاقت کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک چین حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر ان کی معاشی محرومیوں کو مزید بڑھا رہا ہے اور یہ گروہ اسی بنیاد پر سی پیک کی مخالفت کرتے ہیں۔

 

عمران کا رہائی کا مطالبہ مسترد، مذاکراتی عمل کا خاتمہ ہو گیا

یاد رہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا جس کی صدارت وزیرِ اعظم شہباز شریف کر رہے تھے۔ اجلاس کے بعد حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں متعدد کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کا ذکر کیا گیا تھا، جنہیں فوجی آپریشن کا ہدف بنایا جائے گا۔ ان تنظیموں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور اس سے منسلک مجید بریگیڈ کے علاوہ بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ و سندھی علیحدگی پسند گروہوں کے اتحاد بلوچ راجی اجوہی سنگر (براس) شامل ہے۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یکے بعد دیگرے تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں خاص طور پر سیکیورٹی اہلکاروں اور چینی باشندوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بی ایل اے نے رواں ماہ 9 نومبر کو کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی ‘بڑی انٹیلی جینس کامیابی’ قرار دیا تھا۔ اس حملے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 25 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل چھ اکتوبر کو کراچی میں بی ایل اے کے حملے میں دو چینی باشندوں سمیت تین افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے تھے۔ بی ایل اے نے دونوں حملوں میں خودکش حملہ آوروں کو استعمال کیا تھا، جس سے اس تنظیم کی حکمتِ عملی کا اندازہ ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم تحقیقی ادارے ‘دی خراسان ڈائری’ سے وابستہ محقق امتیاز بلوچ کے مطابق بلوچستان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کو کوئی نام نہیں دیا جاتا جیسا خیبرپختونخوا یا قبائلی علاقوں میں آپریشن ‘ضرب عضب’ یا ‘راہِ راست’ کے نام سے ماضی میں کیے جانے والے آپریشنز تھے۔ ان کے بقول بلوچستان میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کی شدت اور نوعیت کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جان بوجھ کر فوج کو صوبے میں ایک بڑے آپریشن کے لیے اکسانا چاہتی ہیں تاکہ جنگ کی سی صورتِ حال پیدا کی جائے اور وہ اپنے لائحہ عمل تیار کریں۔

بلوچستان لبریشن آرمی مسلسل اپنے بیانات میں چین کے خلاف پوزیشن لیتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی سکیورٹی کے لیے 50 ہزار جوانوں پر مشتمل ایک بریگیڈ مختص کر رکھا ہے۔ تاہم بی ایل اے کی جانب سے خود کش حملوں کی سٹریٹجی اپنانے کی وجہ سے چینی باشندے بار بار دہشت گردی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

بی ایل اے نے گزشتہ ماہ کراچی ایئر پورٹ کے باہر چینی قافلے پر حملے کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں بھی سی پیک منصوبے کو "بلوچوں کو مزید غلامی میں دھکیلنے اور ان کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی گھناؤنی سازش” قرار دیا تھا۔ بی ایل اے نے الزام عائد کیا تھا کہ "چین اور پاکستان نے بلوچستان کے معدنی ذخائر اور گوادر بندرگاہ کو ہتھیانے کے لیے اپنی استحصالی منصوبہ بندی کو تیز کر دیا ہے۔”

سی پیک منصوبوں پر کام کرنے کی غرض سے چینی انجینئرز اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ حال ہی میں رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ چین حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والے ہزاروں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے چینی سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کی اجازت دے۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چینی مفادات اور شہریوں پر شدت پسند گروہوں کے حملوں میں اضافے کے باعث چین کی حکومت پریشان ہے اور پاکستان پر اپنا دباؤ بڑھا رہی ہے۔

 

وائس آف امریکہ کے مطابق اس وقت پاکستانی حکام کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ چینی حکام کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اپنے سیکیورٹی پلان کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔” پاکستان میں شدت پسندی اور پاک چین تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد کالعدم تنظیمیں دو دہائیوں سے پاکستان میں چینی شہریوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ تاہم 2013 سے ان حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا تعلق ‘سی پیک’ سے ہے ۔

 

Back to top button