پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسرائیل کے خلاف ہے یا بھارت کے؟

پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے نے انڈیا اور اسرائیل کی نیندیں اڑا رکھی ہیں تاہم اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ پاک سعودی معاہدہ اسرائیل کے خلاف نہیں کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون کئی دہائیوں سے قائم ہے۔حالیہ معاہدے سے صرف اسی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق پاک سعودی عرب "اسٹریٹجک دفاعی معاہدے” نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو چیلنج کر دیاہے تاہم دونوں ممالک کے دفاعی معاہدے پر اسرائیل تو خاموش ہے لیکن بھارت کی چیخیں ہر گزرتے دن کے ساتھ بلند ہوتی دکھائی دی رہی ہیں۔
خیال رہے کہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے کی تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم میڈیا رپورٹس اور تجزیاتی اداروں کے مطابق معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی شق اس معاہدے کو محض رسمی تعاون سے بڑھا کر دفاعی اتحاد کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس شق نے مودی سرکار کے بھی چھکے چھڑا رکھے ہیں۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے کو براہ راست اسرائیل کے خلاف اقدام ماننے سے انکاری ہے۔ اخبار کے مطابق، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔دونوں ممالک کے مابین دفاعی اور معاشی تعاون 1960 کی دہائی سے جاری ہے۔ اس وقت بھی 1500 سے 2000 پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تربیت، مشاورت اور سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق، حالیہ معاہدہ اسرائیل کے خلاف کوئی نئی صف بندی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم دیرینہ دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کی کوشش ہے۔
معاہدے کے وقت پر اٹھتے سوالات بارے اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ قطر میں حماس کے عہدیداروں پر اسرائیلی حملے، غزہ میں مسلسل بمباری اور امریکہ پر مکمل بھروسے کے خاتمے نے سعودی عرب کو نئے اتحادی تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سعودی عرب اس معاہدے سے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک طاقتور مسلم اتحادی موجود ہے۔ اخبار کے مطابق پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں نیوکلیئر معاملے پر بات مبہم رکھی گئی ہے۔ کچھ افواہوں کے مطابق سعودی عرب مالی امداد کے بدلے پاکستان سے نیوکلیئر حمایت مانگ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے معاہدے میں ایسی کوئی بات واضح نہیں، اور پاکستان کا اس حوالے سے مؤقف واضح ہے کہ اس کے نیوکلیئر ہتھیاروں سے کسی اور ملک کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں اس کے ہتھیار صرف بھارت کے خلاف ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کے اس دوٹوک مؤقف کی وجہ سے بھارت میں اس معاہدے کو سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے عرب ممالک میں سلامتی کے خدشات بڑھ گئےہیں جس کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان "اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے” نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئے اتحادوں کی بنیاد رکھ دی ہے، سعودی عرب جان بوجھ کر پاکستان سے دفاعی اتحاد میں داخل ہوا تاکہ بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ بھارتی ماہرین، پاک سعودی دفاعی معاہدے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ تنازع سمیت کشمیر پر کئی جھڑپوں کی تاریخ موجود ہے۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان کی معاشی کمزوری سے زیادہ سعودی عرب کے تزویراتی عزائم کی عکاسی کرتا ہے، جو پاکستان کو اپنا "انحصار کرنے والا شراکت دار” بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاک سعودی عرب معاہدہ علامتی طور پر مسلم دنیا میں ایک نئے دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھتا ہے، تاہم اسے نیٹو طرز کا اتحاد سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم اگر مسلم دنیا نے دفاعی صف بندی شروع کر دی، تو ایک بڑی جنگ کا امکان موجود ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے لیے یہ معاہدہ طاقت کے توازن میں ایک نئی تبدیلی کا عندیہ ہے، جبکہ مسلم دنیا کے لیے یہ اعتماد کی بحالی اور خود انحصاری کی جانب ایک قدم ہو سکتا ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ صرف ایک دستاویزی تعاون ہے یا عالمی طاقتوں کے کھیل میں ایک نئے باب کی شروعات۔
