اسلام آباد ہائیکورٹ : نیب کو بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں نیلام کرنے کی اجازت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی روکنے سے متعلق تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو نیلامی کی اجازت دے دی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے اس معاملے پر مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دائر تمام درخواستوں کو خارج کر دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نیب نے ملک ریاض کی جائیدادوں کی نیلامی کے لیے 7 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی، جو نیب راولپنڈی دفتر اور جی سکس ون اسلام آباد میں ہوگی۔
نیلام کی جانے والی جائیدادوں میں شامل ہیں بحریہ ٹاؤن کارپوریٹ آفس ٹو، پلاٹ نمبر D-7، پارک روڈ ، پلاٹ نمبر E-7، پارک ، روبیش مارکی اینڈ لان روڈ ، بحریہ گارڈن سٹی، گالف کورس کے نزدیک جائیدادیں ، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے متعدد اثاثے ، مزید جائیدادوں کی نیلامی بھی اسی تاریخ (7 اگست) کو عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ مارچ 2025 میں نیب نے بحریہ ٹاؤن کے کراچی، لاہور، نیو مری گالف سٹی، تخت پڑی اور اسلام آباد میں واقع متعدد کمرشل و رہائشی منصوبوں کو سیل کر دیا تھا۔
