اسلام آباد کے بااثر ادارے کو سلیکٹڈ کے متبادل کی تلاش

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور واقع ایک معروف ادارے کو ایسے شخص کی تلاش ہے جو خود سلیکٹ ہونے کی خواہش رکھتا ہوں اور ادارے کے تمام تر قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرنے پر تیار ہو۔ روزنامہ جنگ کے لئے تحریر کردہ اس استعاراتی کالم میں ادارے سے مراد وہی ادارہ ہے جو پچھلے 75 برس سے پاکستان کا نظام چلا رہا ہے۔ مظہر عباس کی جانب سے کیے جانے والے اعلان کی بنیادی وجہ ملک کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ہے جس میں سلیکٹڈ کو گھر بھجوانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

مظہر عباس نے ادسرے کے ایما پر کیے جانے والے اپنے اعلان میں لکھا ہے کہ ایسے تمام افراد اپنی درخواستیں اشتہار میں درج پتے پر مکمل کوائف کے ساتھ ارسال کردیں اور چار عدد تازہ تصاویر بھی ساتھ بھجوائیں۔ ’سلیکٹڈ‘ امیدوار کا اعلان مناسب وقت پر کردیا جائے گا لیکن تب تک درخواست گزار کے نام کو سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر صیغہ رازمیں رکھا جائے گا۔ بقول مظہر، اس سلسلے میں جو تفصیلات ذرائع سے معلوم ہوئی ہیں ان کے مطابق درخواستیں ملنا شروع ہو بھی گئی ہیں اور درخواست دینے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ادارے کے پرانے انتخاب سے مطمئن نہیں اور پہلے سے ’سلیکٹڈ‘ کے خلاف ہیں۔

یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ ادسرے کو اگرکوئی مناسب امیدوار نہ ملا تو سلیکشن کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے گی اور تب تک معاملات جوں کے توں رکھے جائیںگے۔تمام درخواستیں وصول ہونے کے بعد پہلے مرحلے میں ادارے کا سلیکشن بورڈ انٹرویوز کا سلسلہ شروع کرے گا جس کے وقت اور جگہ کو تاحال خفیہ رکھا جارہا ہے۔

مدت ملازمت کا فیصلہ کامیاب امیدوار کی پہلے سال کی کارکردگی پر ہوگا۔ بہرحال یہ مدت تین سے چار سال ہوسکتی ہے کیونکہ اب تک ’سلیکٹ‘ یونے والا کوئی بھی امیدوار اپنی پانچ سالہ میعاد پوری نہیں کرسکا۔ سلیکشن کی شرائط میں ایمانداری کے ساتھ باصلاحیت ہونا بھی ضروری ہے۔

مظہر عباس مزید بتاتے ہیں کہ ادارے نے درخواست گزاروں کے کوائف کے ساتھ کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ مثلاً وہ دہری شہریت نہ رکھتا ہو کیونکہ انتہائی وفادار ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں اس کی پکڑ ہو سکتی ہے جس سے ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ڈگری اصلی ہو یا جعلی دونوں چل سکتی ہیں بس بندہ دونمبر نہ ہو، نہ ہی کمپنی کو مصیبت میں ڈالے۔

تمام درخواست گزاروں سے التماس ہے کہ مکمل کوائف بھیجنا لازمی ہے، مثلاً آپ کمپنی کے لیے کیا کرسکتے ہیں، اس طرح کے کاموں کا کتنا تجربہ ہے، تعلیم کتنی ہے, FA پاس ہیں یا فیل، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں وغیرہ۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کی ہے یا یہیں سرکاری کالج میں۔ ادارہ سوچ رہا ہے کیوں نہ سرکاری نوکری کے لیے سرکاری کالج یا یونیورسٹی کی سطح کی تعلیم کی شرط عائد کر دی جائے تاکہ نئے ’سلیکٹڈ ‘ کو تھوڑا تو احساس ہو تعلیمی معیار کا۔ کوائف میں اپنی صحیح عمر بھی لکھیں جو 30 سے 70 برس تک ہو سکتی ہے۔

 

محسن بیگ نے عمران خان پر کیا الزامات عائد کیے تھے؟

بچے چونکہ غیر سیاسی ہوتے ہیں اور آئین میں بھی اس نوکری کے لیے کم ازکم عمر کا تعین کیا گیا ہے لہٰذا اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بقول مظہر عباس، درخواست گزار کیلئے اپنی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کرنا لازمی ہوگا کہ آپ اب کتنے فٹ ہیں اس پوزیشن پرکام کرنے کے لیے، اس سلسلے میں بھی ادارہ غور کر رہا ہے کہ آئندہ میڈیکل صرف سرکاری اسپتالوں سے کرایا جائے تاکہ نوکری کے وقت شاید کوئی ’’سلیکٹڈ‘ اس طرف بھی توجہ دے۔ امیدوار کیلئے اپنی غیر نصابی سرگرمیاں سے آگاہ کرنا اور کوائف میں اُن کا اندرج کروانا لازمی ہوگا مثلاً آپ ماسوائے سیاسی کھیل کے اور کونسا کھیل اچھا کھیل سکتے ہیں؟

کیا کبھی کرکٹ ایمپائر رہے ہیں کیونکہ ادسرے کو کچھ مرضی کے فیصلے دینے والے ایمپائروں کی بھی ضرورت ہے۔ کبھی آپ کپتان رہے ہیں اگر رہے ہیں تو ٹیم میں بغاوت کی صورت میں معاملات پر کیسے قابو پایا؟ تاہم زیادہ باغیانہ سوچ رکھنے والے درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔ دیگر کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے بھی درخواست دے سکتے ہیں خاص طور پر گالف جو کمپنی میں قومی کھیل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

البتہ ہاکی کھیلنے والوں سے معذرت کیونکہ کمپنی کوخدشہ ہے جو حشر قومی کھیل کا ہوا ہے کوئی ’سلیکٹڈ ‘ قوم کا نہ کردے۔ ویسے تو ’ پولو‘ کے کھلاڑی بھی یہاں تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں مگر انہوں نے یہیں پولو گرائونڈ بنالیا۔

مظہر عباس کے مطابق امیدواروں کے لیے یہ بتانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ ادارے کو مطمئن کریں کہ سیاست میں ان کی دلچسپی کس حد تک ہے۔ ضرورت سے زیادہ سیاسی لوگ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔آخر ’قومی مفاد‘ کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور سب جانتے ہیں کی غیر ضروری سیاست قومی مفاد کے خلاف ہے۔ایسے افراد سوالات بہت کرتے ہیں، بعض اوقات خود ادارے کے قواعد وضوابط پر بھی سوالات اٹھا دیتے ہیں۔

ایسی صورت میں مجبوراً ان کو بغیر نوٹس برطرف کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح قانون کی حکمرانی، آزادیٔ صحافت یا آزاد عدلیہ پر یقین رکھنے والے امیدواروں کو ایک پروسس سے گزرنا پڑے گا کیونکہ یہ سلیکشن کے لیے خطرناک علامات ہیں۔ درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ادارے کو اپنے کاروبار کے حوالے سے مطمئن کرے کہ وہ کیا کاروبار کرتا ہے۔

اسکے علاوہ کوائف کے ساتھ اپنی اپنی ’’منی ٹریل‘‘ بھی دینا ہوگی۔اگر ماضی میں یا حال میں اس مقدمات کا سامنا ہے، جیل ہوئی ہے، سزا ملی ہے یا با عزت بری ہوا یے تو اس کی تفصیل بھی دینا ہوگی۔ آپ اگر انٹرویو میں پاس ہوگئے تو مقدمات میں کچھ رعایت مل سکتی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ادارے نے وقت سے پہلے اشتہار برائے سلیکٹڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس کی بنیادی وجہ یہ پتہ چلی ہے کہ جن موصوف پر ادارے نے 25 سال پہلے کام شروع کیا تھا، وہ تب غیر سیاسی تھے اور قوم کے ہیرو تھے، اب وہ غیر ضروری طور پر زیادہ سیاسی ہوتے جارہے ہیں۔

ان سے پہلے بھی ایک صاحب پر کام ہوا اور وہ لائے گئے لیکن انہوں نے بھی سیاست ہی کو کاروبار بنا لیا۔ ادارے نے محسوس کیا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ نے سیاسی پر پرزے نکالتے ہوئے اکتوبر 2021 سے اپنے ہی ادارے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ لہٰذا یہ اشتہار دینا پڑرہا ہے۔ سمجھنے والے اگر سمجھ گئے تو ٹھیک ورنہ درخواست گزاروں کو انٹرویو کے لیے طلب کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ضروری اعلان ختم ہوا۔

Back to top button