اسرائیلی فوج نے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زمیر نے بالآخر غزہ پر قبضے کے منصوبے کے آپریشنل فریم ورک کی توثیق کر دی، حالانکہ اس سے قبل وہ وزیراعظم نیتن یاہو کی اس پالیسی کے سخت مخالف تھے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ یہ منظوری جنرل سٹاف فورم، اندرونی سلامتی ایجنسی اور دیگر اعلیٰ کمانڈرز کے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں اب تک کی کارروائیوں کا جائزہ بھی پیش کیا گیا، جن میں گزشتہ روز سے جاری زیتون کے علاقے پر حملے شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل ہی حماس کا ایک وفد قاہرہ پہنچا تھا تاکہ مصر کے ساتھ عارضی جنگ بندی پر ابتدائی بات چیت کی جا سکے۔ مبصرین کے مطابق، انسانی بحران اور بین الاقوامی دباؤ کے ماحول میں یہ مذاکرات نہایت اہم تھے، تاہم فوج کی جانب سے قبضے کے منصوبے کی منظوری نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔
یاد رہے کہ اس منصوبے کو توسیع دینے کے حکومتی اعلان پر نہ صرف عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی بلکہ اسرائیلی کابینہ میں بھی اختلافات ابھرے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے اس منصوبے کو آرمٰی چیف، موساد کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی نے مسترد کر دیا تھا، مگر دائیں بازو کے وزراء کی اکثریت کے باعث کابینہ نے اسے منظور کر لیا۔
اب فوجی سربراہ نے بھی بادل نخواستہ اس منصوبے کی توثیق کر دی، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 61 ہزار 500 سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمی ہیں۔
