جوڈیشنل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنائے جانے کا امکان

چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کے زیر صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا اجلاس آج ہوگا، اجلاس کےایجنڈے میں کمیشن کے سیکریٹریٹ کا قیام اور سپریم کورٹ کےآئینی بینچز کی تشکیل کےلیے ججز کی نامزدگی شامل ہے۔ اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کو آئینی بینچ کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے ۔
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا جس میں 26ویں ترمیم کی روشنی میں آئینی بینچوں میں ججز کی نامزدگی پر غور کیاجائے گا۔
کمیشن کےاجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کو دینےکی تجویز دی جائےگی.
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کےتقرر کے موقع پر پارلیمانی کمیٹی نے سپریم کورٹ کےجن 2 سینئر ترین ججوں کے نام مسترد کرکے تیسرے سینئر جج کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا۔ان دونوں سینئر ججوں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کےناموں پر حکومت آئینی بینچ کی سربراہی کےلیے بھی غور نہیں کرے گی،حکومت چوتھے سینئر جج جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ بنانے کی سفارش کرےگی.
حکومت کو بارہ رکنی سپریم جوڈیشل کمیشن میں چھ ارکان وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل، نمائندہ پاکستان بار کونسل، دو ارکان پارلیمنٹ اور خاتون نمائندہ کی حمایت حاصل ہے جب کہ ساتویں رکن مجوزہ سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خود ہیں کیوں کہ وہ پہلےہی سپریم کورٹ کےچوتھے سینئر جج کے طور پر سپریم جوڈیشل کمیشن کے رکن ہیں.
چیف جسٹس یحیی آفریدی اجلاس کےدوران اپنی رائےدیں گے۔ جسٹس امین الدین کو آئینی بینچ کا سربراہ مقرر کیے جانے کےبعد سپریم کورٹ کے پانچویں سینئر جج جسٹس جمال مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیا جائے گا.
قائم مقام صدر نے قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور 6 بلوں پر نے دستخط کردیے
ذرائع کےمطابق سپریم جوڈیشل کمیشن مکمل ہونے کےبعدآج ہی تین سے چھ ماہ کی مدت کیلئے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں نو سے گیارہ رکنی آئینی بینچ تشکیل دے دیے جائیں گے، آئینی بینچ سپریم کورٹ میں اس وقت موجود تمام اپیلیں اور نظرثانی درخواستیں سنےگا، تین سے چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے کےبعد دوبارہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں معاملے کا جائزہ لیا جائےگا۔
