جسٹس کیانی کی بجائے جسٹس ڈوگر کا نیا چیف جسٹس بننے کا امکان

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے تین ججوں کی تعیناتی اس وقت تحریک انصاف کے حامی وکلا کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان تعییناتیوں کا مقصد اسلام اباد ہائی کورٹ کو قابو کرنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب اسلام اباد ہائی کورٹ میں عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سنائی گئی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت شروع ہونے والی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز کی ٹرانسفر کے معاملے پر وکلا تنظیموں کا احتجاج ملک کے بڑے شہروں میں جاری ہے، تاہم پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ان ججز کی منتقلی سے متفق ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وفاق پورے ملک کا ہے اور اس میں دیگر ہائی کورٹس کے ججز کو بھی آنا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تین ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر آئین کے مطابق ہوئی ہے اور اس ضمن میں ان سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ لوگوں کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ایک بلوچی بولنے والا جج آیا ہے اور دوسرا سندھی بولنے والا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کے معاملے کو مکس نہ کریں۔

تاہم تحریک انصاف کے حامی وکلا کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے اسلام اباد ہائی کورٹ میں تعیینات کیے جانے والے جسٹس سرفراز ڈوگر اس وقت سنیرٹی میں دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ میں چلے جانے کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی کی بجائے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا جائے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل اور اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کی بار اسوسی ایشنز نے بھی اس کال کی حمایت کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اس احتجاجی کال کا حصہ نہیں بنیں حالانکہ یہ دو تنظیمیں پاکستان کی سب سے اہم وکلا تنظیمیں ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جن تین ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ان میں سے لاہور ہائی کورٹ سے سردار سرفراز ڈوگر، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس خادم حسین سومرو اور بلوچستان ہائی کورٹ سے جسٹس محمد آصف شامل ہیں۔ صدر مملکت نے آئین کی شق 200 کے سب سیکشن ایک کے تحت ان تینوں ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹراسفر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنے سے متعلق سمری صدر مملکت کو بھیجی گئی تھی جس پر مشاورت کے بعد ان جسٹس صاحبان کو ملک کی تینوں ہائی کورٹس سے تبدیل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہ خاور کا کہنا ہے کہ آئین میں ججز کی دوسری عدالت منتقلی کا طریقہ کار موجود ہے اور یہ عمل غیر ائینی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جج کو منتقل کیا جانا ہو پہلے اس کی رضامندی لی جاتی ہے جس کے بعد جس ہائی کورٹ میں وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوتا ہے اس کے چیف جسٹس کی مرضی معلوم کی جاتی ہے اور پھر جس ہائی کورٹ میں اس کو بھیجا جانا ہے اس کے چیف جسٹس کی رضامندی لی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مراحل مکمل ہونے کے بعد جب حکومت کی طرف سے سمری صدر مملکت کو بھجوائی جاتی ہے تو وہ پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد اس جج کی ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔ شاہ خاور کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا گیا ہے اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے کچھ ججز کو بھی بلوچستان ہائی کورٹ بھیجا گیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے براہ راست ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ملک کی کسی دوسری ہائی کورٹ سے جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے فروری 2008 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنا کام شروع کیا اور اس کے پہلے چیف جسٹس سردار محمد اسلم تھے جن کا تعلق لاہور ہائی کورٹ سے تھا تاہم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کے خلاف تب کی سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر اپنے 31 جولائی 2009 کے فیصلے میں ان تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا جو ایمرجنسی کے دوران اٹھائے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب دوبارہ اپنا کام شروع کیا تو جسٹس ایم بلال خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔ ان کا تعلق بھی لاہور ہائی کورٹ سے تھا جبکہ اس کے بعد آنے والے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن بھی لاہور ہائی کورٹ سے ٹرانسفر ہوکر اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے اور پھر اسی ہائی کورٹ سے وہ سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انور کاسی کا تعلق بلوچستان سے تھا لیکن جب انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تو اس سے پہلے وہ بلوچستان میں سیشن جج کے عہدے پر تعینات تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان ججز کی ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سینیارٹی متاثر ہو گی؟ جن تین ججز کو اسلام آباد ہائی میں ٹرانسفر کیا گیا ہے ان ججز میں جسٹس سردار سرفراز ڈوگر سب سے سینیئر ہیں۔ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر 2015 سے لاہور ہائی کورٹ میں تعینات ہیں۔

اسلام آ باد ہائی کورٹ میں ان کی ٹرانسفر کی وجہ سے صرف ایک جج کی سنیارٹی متاثر ہوئی ہے اور وہ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں۔

سردار سرفراز ڈوگر چیف جسٹس کے بعد اب سب سے سینیئر جج بن گئے ہیں اس سے پہلے جسٹس محسن اختر کیانی سب سے سینیئر جج تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کی سنیارٹی مثاثر نہیں ہوئی کیونکہ جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس آصف کی تعیناتی سنہ 2023 میں عمل میں لائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز جن میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے دیگر ہائی کورٹس سے ججز کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے چیف جسٹس یحیٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ کسی بھی جج کو دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کے حوالے سے مشاورت کا عمل صاف شفاف ہونا چاہیے۔ اپنے خط میں ان ججز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جو بھی جج ٹرانسفر ہو کر آئے گا تو آئین کے مطابق وہ دوبارہ حلف لے گا جس روز وہ حلف لے گا اسی روز سے اس کی سنیارٹی شمار ہو گی۔

اس سے پہلے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سات ججز نے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھا تھا جس میں فوج کے خفیہ اداروں کی عدالتی معاملات میں مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان سات ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی شامل تھیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز لانے کی کیا ضرورت کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لیے زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے ان ججز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس دعوے کے برعکس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان پانچ ججز نے جو خط لکھا اس میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہیں زیادہ ہے اور اس لیے اگر ججز کو ٹرانسفر کرنا ہے تو لاہور ہائی کورٹ میں جج تعینات کیے جائیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اب عدلیہ کو قابو میں لانے پر پر تلی ہوئی ہے اور ان ججز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پیر کے روز وکلا کی ہڑتال کے علاوہ وکلا برادری آئندہ کا لائحہ عمل جلد ہی تیار کرے گی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز کی ٹرانسفر کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ بار کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے سرکولیشن کے ذریعے ججز کی ٹرانسفر پر رائے لی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 200 اس ضمن میں بالکل واضح ہے۔ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ججز کی ٹرانسفر نئی تقرری نہیں ہوتی اور ٹرانسفر ہونے والے ججز کی سنیارٹی برقرار رہے گی۔

Back to top button