آئینی بینچ میں توسیع کی مخالفت : جسٹس منصور کا خط منظر عام پر آگیا

آئینی بینچ سپریم کورٹ میں توسیع کےمعاملےپرسینئر ترین جج جسٹس منصور کا خط منظر عام پر آگیا۔

جسٹس منصورکا یہ خط 19 جون کے اجلاس سے پہلےلکھا گیا تھا خط  میں انہوں نے آئینی بینچ میں توسیع کی مخالفت کی تھی جبکہ ان کا خط جوڈیشل کمیشن ممبران کوپہنچایا گیا۔

خط کے متن میں جسٹس منصور کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ 26 ویں ترمیم کے کیس میں فیصلے تک توسیع نہ کی جائے، پیشگی بتا دیا تھا کہ 19 جون کے اجلاس کے لیے  پاکستان میں دستیاب نہیں،توقع تھی عدم دستیابی پر اجلاس مؤخر کیا جائےگا کیونکہ ماضی میں ایگزیکٹوممبران کی عدم موجودگی پر اجلاس مؤخر ہوچکا ہے، عدلیہ ممبران اقلیت میں ہیں اس لیے شاید مؤخرنہیں کر پائے۔

قائمہ کمیٹی خزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں مزید کمی کی تجویز منظور کر لی

 

خط میں مزید لکھا گیا کہ 26 ویں ترمیم فیصلے سے پہلے توسیع اس بحران کو مزید گہراکر دے  گی،یہ تنازع عدلیہ کی ساکھ اور اس پر عوامی اعتبار کو تباہ کررہا ہے۔

واضح رہے کہ خط  میں یہ بھی لکھا گیا کہ  26 ویں ترمیم کےفیصلے تک تمام ججز کو آئینی بینچ ڈیکلیئر کیا جائے اورآئینی بینچ میں شمولیت کا معیار اور پیمانہ بھی طےکیاجائے۔

Back to top button