جسٹس مظاہر نقوی کا دھڑن تختہ یقینی کیسے ہو گیا؟

سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج کہلانے والے جسٹس مظاہر نقوی کی چھٹی یقینی ہو گئی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے کرپشن کے مبینہ الزامات پر جسٹس مظاہر نقوی کے دفاع کر برعکس جہاں ایک طرف بلوچستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کی مبینہ کرپشن کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کر دیا ہے وہیں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے ساتھی جسٹس سردار طارق مسعود نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس پر غور کرنے کے لیے کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کی جانب سے خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سر براہ چیف جسٹس پاکستان، جسٹس احمد علی شیخ، جسٹس امیر محمد بھٹی کو لکھا گیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کونسل کا اجلاس بلا کر تعین کیا جائے کہ جسٹس مظاہر نقوی پر الزامات درست ہیں یا غلط ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ اگر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد الزامات غلط ہیں تو عدالت عظمیٰ کے جج کی عزت بحال کی جائے اور اگر ان کے خلاف لگائے الزامات درست ہیں تو آئین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے جج کو الزمات کے سائے میں رکھنے سے جج اور عدلیہ کی عزت پر حرف آ رہا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور اس پر عوام کے اعتماد کے لئے ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس فوری بلایا جائے۔

واضح رہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا نام ایک آڈیو لیک میں سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد شکایتی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ تاہم اب 3 اپریل کو بلوچستان بار کونسل نے بھی سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور سپریم کورٹ کے جج کی مبینہ آڈیو لیک کے تناظر میں دائر ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے حوالے سے سامنے آنے والی آڈیوز نہایت اہمیت کی حامل ہیں، تمام شواہد اور حالات جج کی شہرت کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ جج کے بیٹے لاہور میں وکالت کررہے ہیں۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہرنقوی اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اس وجہ سے ان کے بیٹوں کو ہائی پروفائل مقدمات میں وکیل مقرر کیا جاتا ہے۔بلوچستان بار کونسل کی جانب سے دائر ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہرنقوی نے اپنی آمد ن سے زائد اثاثہ جات بھی بنا رکھے ہیں، عوام اور بارز کے اعتماد کیلئے جسٹس مظاہرنقوی کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

خیال رہے کی مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی طرح سے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل میاں داؤد نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔دائر کردہ ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ جج نے اپنے بیٹوں اور بیٹی کی بیرون ملک تعلیم اور ایک تاجر زاہد رفیق سے ’مالی فائدہ‘ حاصل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا، ’جج، پی ٹی آئی اور اس کے رہنما عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کھلے عام ظاہر کرتے ہیں‘، وہ اپنی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف خطرناک ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔شکایت گزار کے مطابق ’سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے نجی گفتگو کے دوران اعتراف کیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی نقوی پی ٹی آئی کی حمایت کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش تین آڈیو ٹیپس میں بظاہر چوہدری پرویز الہٰی مختلف افراد سے گفتگو کر رہے ہیں، جن میں اپنے کیسز جسٹس مظاہر نقوی کے پاس لگوانا بارے گفتگو کر رہے ہیں۔ بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کی گفتگو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ جسٹس مظاہر نقوی بارے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر ٹرک کھڑے ہونے کا اشارہ دے رہے تھے جس پر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ٹرک کو پیسوں کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ چودھری پرویز الٰہی کے دست راست اور پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے سامنے آنے والے ویڈیو اعترافی بیان میں بھی انھوں نے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف کے سپریم کورٹ کے کیسز اور لاہور ہائیکورٹ کے کیسز جسٹس مظاہر نقوی مینج کرتے ہیں اور اس کے بدلے انھیں نوازا بھی جاتا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دائر کردہ 6 شکایات پر کارروائی کرنے اور سامنے آنے والی آڈیوز اور ویڈیوز بارے تحقیقات کئے بغیر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال آڈیوز اور ویڈیوز کو غیر اہم قرار دے کر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دے چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس میں آڈیو اور ویڈیو لیکس پر برہم ہوتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ کو آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے، ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں، روزانہ آڈیوز،وڈیوز سامنے آرہی ہیں، ان آڈیو وڈیوز کی کیا کریڈیبیلٹی اور کیا قانونی حیثیت ہے؟ ہم صبر اور درگزر سے کام لے رہے ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نےمزیدکہا کہ عدلیہ پر بھی حملے ہورہے ہیں سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیوٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں، ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو لیکس میں ہم پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

تاہم اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ججز کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی پر عائد الزامات کی تحقیقات کے مطالبے پر مبنی خط کا چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا جواب  دیتے ہیں؟ یا ماضی کی طرح جسٹس مظاہر نقوی کو کسی اور اہم کیس کی سماعت کے لئے ساتھ بٹھا کر سینئر ججز کو خاموش پیغام دے دیتے ہیں کہ میں تمام تر الزامات اور ثبوتوں کے باوجود اب بھی جسٹس مظاہر نقوی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

مہنگا حج، پاکستان میں کوٹے سے انتہائی کم درخواستیں موصول

Back to top button