’’کابلی پلائو‘‘ کو شاہکار ڈرامہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

گرین انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ ’’کابلی پلائو‘‘ کو شائقین کی جانب سے پسند کیے جانے کے ساتھ اداکاری، حقیقت نگاری کے حوالے سے شاہکار قرار دیا جا رہا ہے، باربینہ ’برقعے میں بھی اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔مصنف ظفر معراج نے یہ جملہ اپنی فیس بک وال پہ لکھا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ لباس فیصلہ سازی کا محتاج نہیں ہوتا، حالات کیسے بھی ہوں انسان کا کردار اس کی شناخت بنتا ہے۔ ڈراما ’کابلی پلاؤ‘ کی خوشبو سرحدوں پار دور دور تک پھیل چکی ہے۔جنگ اور امن سے معاشرے، انسان، خاندان، تہذیب، نفسیات، معاش، زندگی کس طرح متاثر ہوتی ہے یہ سمجھنا ہو تو کابلی پلاؤ کا ایک ایک مکالمہ آپ کے دل پہ نشتر کا کام کرتا ہے۔’کابلی پلاؤ‘ ڈرامائی تکنیک،اداکاری، حقیقیت نگاری معاشرے کی عکاسی، ہرطرح سے داد وصول کر چکا ہے اور ان چند ڈراموں میں شامل ہو چکا ہے جو فن کا شاہکار ہوتے ہیں۔ڈرامے کی کہانی دلچسپ ہے جس میں شوکت کا مرکزی کردار اچانک بن جاتا ہے جب ایک افغان مہاجر لڑکا مردان آئی تبلیغی جماعت میں اپنی بہن کے رشتے کی بات کرتا ہے جو بیوہ ہے، شادی کے لیے کوئی نہیں مانتا، وہی لڑکا ایک ٹھیلے پہ کابلی پلاؤ فروخت کرتا ہے۔ شوکت وہ کابلی پلاؤ بہت شوق سے کھاتا ہے۔ ایک دن لڑکا ٹھیلا نہیں لگاتا توشوکت سمجھاتا ہے کہ کاروبار میں چھٹی نہیں ہوتی کیونکہ شوکت یعنی حاجی صاحب نے ایک سیلف میڈ انسان کے طور پہ کاروبار کی بنیاد بھی رکھی اور اس کو اتنی وسعت دی کہ کپڑے کے کاروبار میں ان کا ایک نام ایک مقام بن گیا۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے والدین کے بعد سب بہن بھائیوں کی شادی کی، ان کے کاروبار سیٹ کیے، غیروں کے کاروبار سیٹ کرنے میں مدد کی، زندگی کے اس میلے میں اسے اپنی شادی کا وقت ہی نہیں ملا اور نصف صدی گزار جانے کے بعد اس نے کاروبار، گھر بار بھی چھوٹے بھائی اور اس کے خاندان کے حوالے کیا اور خود تبلیغی جماعت کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکل گیا۔باپ کا انتقال اس کی کم عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ بیوہ ماں نے کپڑے سی کر گزارا کیا۔ اسے اپنی ماں کی جوانی کا پل پل یاد ہے اور وہ روز ماں کی قبر پہ جاتا ہے۔اس کی ایک محلے دار خاتون شمیم اس سے محبت کرتی ہے لیکن شوکت اسے جوانی میں ہی کہہ دیتا ہے کہ وہ شادی کر لے، مگر وہ اس کے انتظار میں شادی نہیں کرتی۔ شمیم نے خود کو خود ہی شوکت کی بیوی مان لیا ہوا ہے۔ ڈراما ہو یا زندگی، محبت کی جنگ میں عورت ہی تنہا رہ جاتی ہے۔شوکت کے خاندان میں بہن بھائیوں کے بچے جوان ہو چکے ہیں۔ ایک بہن اپنے گھر میں نارمل زندگی گزار رہی ہے۔ دوسری کا شوہر ذہنی بیمار اور لالچی ہے کہ اس کی بیوی بانجھ ہے اور وہ اسے نکاح میں رکھ کر ان سب پہ احسان کر رہا ہے۔ لیکن ڈراما بتائے گا کہ اس کی بیوی نہیں وہ خود بانجھ ہے کیونکہ جس انسان کے اپنے اندر کمی ہو اسی کی آوازسب سے زیادہ اونچی ہوتی ہے۔اس سارے منظر نامے سے نکل کر جب شوکت مردان میں اس کابلی پلاؤ فروخت کرنے والے کے گھر پہنچتا ہے وہاں ایک مہاجر گھرانے کی مجبوریاں اور شوکت کے سخی پن کا ظرف مقابل آجاتے ہیں۔ وہ باربینہ کے بھائی کے علاج کے لیے اسے دولاکھ دے دیتا ہے اور یونہی کہہ دیتا ہے کہ اب باربینہ اس کی امانت ہے۔وہ سمجھ جاتا ہے کہ وہ بیوہ عورت شادی نہیں کرنا چاہتی مگر باربینہ کے سر پہ جو احسان چڑھ جاتا ہے وہ اس کےمطابق فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہ شوکت سے ہی نکاح کرے گی۔یہ وہ پہلا مقام ہے جب برقعے میں لپٹی عورت کی قوت فیصلہ سامنے آتی ہے۔ یہاں بہت سے سین ایسے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک باپردہ عورت اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے جبکہ لاہور کی ماڈرن مادیت پرست خواتین اپنا فیصلہ آپ نہیں کر سکتیں۔ ان کے گھر کے مرد جو فیصلہ کر دیں وہی ان کی منزل ہے۔یوں یہ ڈراما برقعے کے ٹیبو کو رد کرتا ہے۔کہانی میں عروج و زوال اور پرانے کینے در آنے کا یہی وقت ہے اور افسوس کی بات تو یہی ہے کہ خوشحالی سب سے پہلے اپنے ریت رواج آپ متعین کرتی ہے جس کے مطابق شوکت سب کے لیے مجرم سا بن جاتا ہے۔ایک پورا سچ جو ظفر معراج نے بہت سادگی سے لکھ دیا ہے۔ ’تم قتل کرتے ہو ہم ذلیل کرتے ہیں ایک دوسرے کو۔‘ یہ مکالمہ ہماری تہذیب کی چغلی کھاتا ہے۔ یہ مکالمہ مردان سے چلتا ہے اور اب لاہور سے ہوتا ہوا کراچی تک پہنچا ہے ممکن ہے یہ پورے سماج کے چہرے سے پردہ ہٹا دے۔ایک ایک مکالمہ ایک ایک کہانی ہے۔ کابلی پلاؤ کی خوشبو اور ذائقہ تک ڈرامے میں محسوس ہو رہا ہے۔ کہانی کے تقاضوں کے مطابق سکرپٹ تین زبانوں اردو، پشتو اور پنجابی میں لکھا گیا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ ہمارے پاس داد کےالفاظ نہیں
صدر کے عہدے کا آخری روز،عارف علوی ایوان صدر خالی کریں گے؟
ہیں، ’کابلی پلاؤ‘ آج کے دور کا ’وار اینڈ پیس‘ ہے۔
